عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور کا چیف الیکشن کمشنر کے نام کھلا خط

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور نے چیف الیکشن کمشنر سردار رضا احمد خان کے نام ایک کھلا خط تحریر کیا ہے جس کا متن درج ذیل ہے۔
بعد از سلام عرض خدمت ہے کہ آپ کے ساتھ ملاقات میں بھی آپ سے یہ عرض کی تھی کہ پشاور کے حلقہ این اے ون کا نام تبدیل نہ کیا جائے،پشاور شہر کو این اے ون کسی خیرات میں نہیں ملا پشاور ایک بہت پرانا تاریخی شہر ہے لہٰذا یہ نمبر چھین کر اس کی سیاسی اہمیت اس کی افادیت اور اس کی اہمیت عزت اور مقام نہ چھینا جائے ، خیبر گیٹ آف انڈیا تھا اور اس گیٹ آف انڈیا پر پشاور سب سے پہلا شہر تھا ، جتنے بھی فاتح آئے اس راستے کے سر پر پاؤں رکھ کر گزرے اور کئی بار پشاور شہر میں لوٹ مار کا بازار گرم کئے رکھا اس کے ساتھ ساتھ جنگ آزادی میں بھی پشاور کا اپنا مقام ہے پورے ہندوستان کے صرف دو شہروں میں گولی چلی امرتسر کے جلیاں والا باغ اور پشاور کے شہر قصہ خوانی بازار میں 23مارچ1930کو فائرنگ کی گئی جس میں سینکڑوں لوگ شہید اور زخمی ہوئے ، اسی رات پشاور میں برے پیمانے پر گرفتاریوں بھی ہوئیں،اور پشاور کی تباہی و بربادی کی رپورٹ تیار ہوئی جو پشاور کے میر بخش خان ایڈوکیٹ نے لکھی جبکہ ملک شاد محمد خان اور وارث خان نے بڑی مشکل سے یہ رپورٹ گاندھی جی کو پہنچائی ، گاندگی جی اس رپورٹ کی بنیاد پر وائسرائے سے بات کی اور مطالبہ کیا کہ اگر ان لوگوں کو نہ چھوڑا گیا تو ہم ہندوستان میں تحریک چلائیں گے،پشاور کے شہریوں کو30مئی کو رہائی ملی رہائی پانے والوں نے ایک رات اپنے گھروں میں گزاری اور اگلے روز بازار کلاں میں پھر جلوس نکالا جس پر دوبارہ فائرنگ کی گئی اور اس سانحہ میں بھی کئی افراد شہید اور زخمی ہو گئے،جنگ آزادی میں پشاور شہر کے لوگوں کا بہت برا کردار ہے جو کسی دوسرے شہر کو نصیب نہیں ہوا، اس شہر میں قیوم خان ، سردار عبدالرب نشتر، جنرل یحیی خان ، جنرل عابد حسین زاہد، جنرل صابت اور کئی نامور لوگ اس شہر میں پڑھے لکھی اور ملک کی عزت کیلئے نام کمایا ۔ پشاور کیلئے آپ کے پیار محبت میں کوئی شک نہیں آپ نے کافی وقت یہاں گزارا ہے ایسا لگتا ہے کہ آپ کے ارد گرد ایسی کالی بھیڑیں ہیں جو اس شہر کی اہمیت اور افادیت کم کرنا چاہتی ہیں،پشاور اس صوبے کا صدر مقام ہے ، گورنر ، وزراء چیف سیکرتری اور آئی جی سمیت تمام انتظامیہ اس شہر میں موجود ہے اس شہر کی افادیت اور سیاسی اہمیت دوسرے شہروں کے مقابلے میں کم نہیں،اور اس کا نمبر ون ہونا ہی اس کی عزت ہے لہٰذا اس شہر سے یہ نمبر چھین کر اس کی سیاسی اہمیت ختم نہ کریں ، کافی عرصہ قبل اس شہر کی اہمیت ختم کرنے کیلئے گریٹر پنجاب بنایا گیا اور نام ون یونٹ رکھا گیا اور صوبے کو ختم کیا گیامگر باچا خان اور ان کے ساتھیوں کی قربانیوں ولی خان کی فہم و فراست اور اللہ کے فضل سے یحیی خان نے ون یونٹ ختم کر کے صوبوں کو بحال کیا اور پھر ہمارے صوبے کو عزت ملی کچھ لوگ صوبے کی سیاسی اہمیت کو ختم کرنے میں ناکام ہو کر پشاور شہر کے پیچھے پڑ گئے ۔
آپ سے التماس ہے کہ ہمارے پشاور کی اہمیت اور افادیت و عزت کو اس کے مقام کو مد نظر رکھتے ہوئے این اے ون سے محروم نہ کیا جائے کیونکہ اس نمبر کی تبدیلی سے ملک و قوم کو تو کوئی فائدہ نہیں لہٰذا پشاور کی قربانیوں کا پاس رکھتے ہوئے اسے این اے ون ہی رہنے دیں۔