جمہوریت کو خطرے کی صورت میں اے این پی بھرپور مزاحمت کرے گی، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ عوام پی ٹی آئی کی ناکام حکومت اور ان کی جھوٹے وعدوں سے تنگ آچکے ہیں اور آنے والے الیکشن میں اے این پی کو کامیاب کر کے گزشتہ الیکشن میں ہونے والے نقصان کی تلافی چاہتے ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبی ون اور پبی ٹو کے تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اجلاس میں نوشہرہ میں دوبارہ بڑے جلسہ عام کے انعقاد کا فیصلہ بھی کیا گیا اور اس سلسلے میں صورتحال کا جائزہ لے کر جلسہ کے انعقاد کا اعلان کیا جائے گا، میاں افتخار حسین نے کہا کہ عوام کو احساس ہونے لگا ہے کہ پی ٹی آئی کو ووٹ دے کر انہوں نے کتنی بڑی غلطی کی ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی واحد جماعت ہے جو پختونوں کی بقا اور ان کے حقوق کے لیے ہمیشہ جنگ لڑتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے صوبائی حکومت کی تبدیلی دیکھ لی وہ اب باچاخانی چاہتے ہیں جو کہ حقیقی تبدیلی ہے جس میں برابری، انصاف اور عوام کو ان کے حقوق دینا ہے، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے جھوٹے وعدوں سے عوام تنگ آچکے ہیں، ملکی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ملکی حالات کے تناظر میں اس وقت پاکستان کے لیے جمہوریت نہایت ضروری ہے۔ اے این پی جمہوری پارٹی ہے اور کسی غیر جمہوری اقدام کے نتیجے میں جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اے این پی اس عمل کی بھرپورمزاحمت کرے گی،انہوں نے کہا کہ موجودہ نازک صورتحال کے پیش نظر پختونوں کے اتحاد و اتفاق کی اشد ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کا ادراک نہ رکنھے والی حکومت نہ صرف یہ کہ صوبے کے محدود وسائل استعمال کرنے میں ناکام ہو گئی ہے بلکہ صوبے کو تاریخ کے بدترین مالی و انتظامی بحران سے دوچار کر دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں ترقی کا پہیہ رک گیا ہے ،اور تمام امور ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں،جس کا خمیازہ دہشت گردی کے مارے عوام بھگت رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ عوام کی نظریں اے این پی پر لگی ہیں اور اسی سے توقعات وابستہ کر رکھی ہیں،انہوں نے کہا کہ عوام کو الیکشن کا اب شدت سے انتظار ہے تا کہ وہ اپنے ساتھ دھوکہ کرنے والوں سے ووٹ کے ذریعے بدلہ لے سکیں۔کر حکومت نے صوبے کو مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھ دیا اور پشاور کو بی آر ٹی کے نام پر تباہ و برباد کر دیا گیا اور یہ سب کچھ صرف اپنی کمیشن اور کرپشن کیلئے کیا جا رہا ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ 5سال میں صرف ایک منصوبہ شروع کیا گیا اور اس کیلئے بھی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ، انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی بغیر فزیبلٹی رپورٹ اور نقشہ کے شروع کی گئی جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت کو عوام سے کوئی سروکار نہیں بلکہ صرف اپنی کمیشن سے غرض ہے اور بی آر ٹی میں جس طرح کی کرپشن کی گئی ہے اس کا میگا کرپشن سکینڈل بھی جلد عوام کے سامنے آ جائے گا، انہوں نے کہا کہ عمران خان نے خیبر پختونخوا کو تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا در حقیقت انہیں صوبے سے کوئی سروکار نہیں ، ان کی تمام توانائیاں پنجاب کی سیاست اور وہاں کے ووٹ بنک کیلئے صرف ہوئیں لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ اس مذموم مقصد کیلئے انہوں نے پختونوں کا کندھا استعمال کیا ۔