بے گناہوں کی ٹارگٹ کلنگ سرکاری پالیسی نہیں ہو سکتی،راؤانوار کے سپورٹر ز پر ہاتھ ڈالا جائے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ آنے والی نسلون کی بقاء اور پر امن مستقبل کیلئے حکمت کی بنیاد پر فیصلے کرنا ہونگے ،پختونوں کا خون بہت بہ چکا ہے ، افغانستان میں حقیقی انقلاب لانے والوں کو پھانسی دے دی گئی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے تہکال پشاور میں مرحوم ارباب مجیب الرحمان کے چہلم کے موقع پر منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے مرحوم ارباب مجیب الرحمان کی سیاسی زندگی اور ان کی گرانقدر خدمات پر مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ 1967سے مرحوم کے ساتھ قریبی تعلق رہا اور کئی اہم موضوعات پر انہوں نے رہنمائی کی ، انہوں نے کہا کہ مرھوم ایک وطن دوست انسان تھے اور ہمیشہ انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار رہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ نور محمد ترکئی ، ببرک کارمل اور ڈاکٹر نجیب جیسے رہنماؤں کو راستے سے ہتا یا گیا، اور بعد ازاں مہاجر کی صورت میں پاکستان وآ نے والوں کو پہلے مجاہد اور پھر طالب بنا دیا گیا، انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کا پرامن حل نکالا جائے اور اس مقصد کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ نقیب اللہ محسود کی شہادت رائیگاں نہیں جائیگی،انہوں نے کہا کہ نقیب اللہ کی شہادت کے بعد کراچی گیا اور وہاں بھی یہی بات کی کہ ہم پختونوں کے خون کا حساب لیں گے ،انہوں نے کہا کہ راؤ انوار صرف ایک فرد نہیں بلکہ اس سازش کے پیچھے بڑی قوتیں کار فرما ہیں ، انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ پر گرفتاری کے بعد فرار ،عدالت کو خطوظ اور پھر پروٹوکول کے ساتھ پیشی سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ راؤ انوار کے سر پر کسی اور کا ہاتھ ہے، انہوں نے کہا کہ بے گناہ لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ سرکاری پالیسی نہیں ہو سکتی لہٰذا راؤ انوار اور اس کے پیچھے چھپی قوتوں کو گرفتار کر کے کڑی سزا دی جائے،آئی ڈی پیز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاکھوں آئی ڈی پیز بے گھر کیمپوں میں پرے ہیں لیکن ان کی واپسی کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات دیکھنے میں نہیں آ رہے ، 200سے زائد ہم نے راشد شہید فاؤنڈیشن میں داخل کئے اور انہیں جدید تعلیم سے روشناس کرانے کیلئے کام کیا جا رہا ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ فاٹا کا مسئلہ جلد از جلد حل کیا جائے بارودی سرنگوں کا صفایا کیا جائے اور تباہ ہونے والے گھر اور سکول دوبارہ تعمیر کر کے ان کی باعزت واپسی یقنی بنائی جائے، اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 10جنوری کو وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس کے بعد کیبنٹ ڈویژن نے اٹھارویں ترمیم کی واپسی کیلئے تجاویز طلب کیں ، صرف چند عناصر ایسے ہیں جن کی آنکھ میں اٹھارویں ترمیم کھٹک رہی ہے ،تاہم اے این پی اپنی فتح کسی کی جھولی میں نہیں ڈالے گی اور اگر اسے رول بیک کیا گیا تو اے این پی میدان میں ہو گی، انہوں نے کہا کہ صوبوں کو مزید حقوق دینے کی بجائے ان سے حق چھیننے کی پالیسی ملک کے مفاد میں نہیں ، حقوق چھیننے کی صورت میں ایک بار پہلے مشرقی پاکستان کا سانحہ رونما ہو چکا ہے لہٰذا ملک اس بار ایسی کسی پالیسی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں جس طرح ضمیر فروشی کی گئی اس سے بڑھ کر کوئی کرپشن نہیں ہو سکتی ، انہوں نے کہا کہ ووٹ بیچنے اور خریدنے والوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے اور ایوان کا وقار بھال کرنے کیلئے انہیں سزا دی جائے ، انہوں نے کہا کہ موجودہ دور ہم سے اتحاد واتفاق کا متقاضی ہے اور تمام مشکلات اور مسائل سے نجات پانے کیلئے اندرونی طور پر ایک دوسرے کی تانگیں کھینچنے کی بجائے اتفاق سے سنجیدہ کوششین کرنا ہونگی۔