ایگزیکٹو اختیارات عدلیہ کو دینے کی حکومتی کوششیں آئین سے متصادم ہیں، سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ ایگزیکٹو اختیارات عدلیہ کو دینے کی حکومتی کوششیں قابل افسوس اور آئین سے متصادم ہیں اور احتساب ایکٹ میں حکومتی ترمیم ہائیکورٹ کی جانب سے مسترد ہونے پر حکمرانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اے این پی نے حکومتی ترمیم کی پہلے سے ہی مخالفت کی تھی اور اسے آئین سے متصادم قرار دیا تھا ، انہوں نے کہا کہ آئین میں تمام اداروں کے اختیارات واضح ہیں تاہم صوبائی اسمبلی میں عددی اکثریت کی بنیاد پر من پسند قوانین بنانا اور ان قوانین میں ترامیم لانا حکومتی بد نیتی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا منہ بولتا ثبوت ہے،انہوں نے کہا کہ احتساب کمیشن کی ناکامی کے بعد حکومت نے احتساب ایکٹ کا حلیہ بگاڑ دیا ہے اور احتساب کمیشن میں من پسند عہدوں پر اپنے چہیتوں کی تعیناتی سے صوبے میں احتساب کے عمل کو جانبدارانہ اور کرپشن کو فروغ دینے کی راہ ہموار کر دی ہے، سردار حسین بابک نے کہا کہ موجودہ حکومت صوبائی اسمبلی سے زیادہ قوانین پاس کرانے کا کریڈٹ لیتی رہی ہے جبکہ معلومات تک رسائی ، احتساب ایکٹ ، کنفلیکٹ آف انرٹسٹ، سیاحت، انر جی اینڈ پاور ، لوکل گورنمنٹ ایکٹ اور اس طرح کے بہت سے قوانین میں من پسند ترامیم سے ان قوانین کی اہمیت اور ضرورت کی افادیت کو ختم کر دیا گیا ہے، سردار بابک نے کہا کہ بیشتر قوانین کے پاس ہونے کے باوجود ان کیلئے تاحال قواعد و ضوابط کی غیر موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اقدامات محض پوائنٹ سکورنگ کیلئے تھے، انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے نام پر صوبے کے تمام شعبوں میں اقربا پروری کا بازار گرم ہے اور اپنے پیاروں کو نوازنے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے جس کے صوبے کے عوام پر برے اثرات مرتب ہونگے اور اس کا خمیازہ بھی عوام ہی بھگتیں گے،انہوں نے الزام لگایا کہ صوبائی حکومت روز اول سے اپنے کاروباری چہیتوں کو مالی فوائد دینے کیلئے قوانین ، ترامیم اور ایگزیکٹو آرڈرز جاری کرتی رہی ہے اور غیر ضروری منصوبوں پر اربوں اور کروڑوں روپے خرچ کر کے سرکاری ذرائع اور وسائل کو اپنوں میں ریوڑیوں کی طرح بانٹ رہی ہے۔