اٹھارویں ترمیم رول بیک کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہاٹھارویں ترمیم رول بیک کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے اور اگر ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تو اے این پی میدان میں ہو گی، سینیٹ میں بکنے والے ممبران کے خلاف تحقیقات ہونی چاہئے ، پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن نے ہمیشہ اے این پی کی نرسری کاکرداراداکیا ہے۔جمہوریت اورسیاست خصوصاً موجودہ حالات میں جبکہ پوری قوم متعددخطرات سے دوچارہے نوجوان نسل کی ذمہ داریاں دوچند ہو جاتی ہیں۔پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلباء اپنی روایات اورتاریخ کو سامنے رکھ کراپنی اجتماعی ذمہ داریوں کااحساس اورادراک کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کی گولڈن جوبلی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور ، سینئر رہنما عبدالطیف ایڈوکیٹ ، صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک سمیت پارٹی کے سینئر رہنماؤں بھی تقریب میں موجود تھے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختون ایس ایف پارٹی کا ہراول دستہ ہے اور باچا خان کا فلسفہ ہے کہ نوجوانوں پر محنت کرکے کارآمد شہری بنایاجائے۔انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں طلباء کے مسائل حل کرنے کو ترجیح دی اور آئندہ بھی طلباکے حقوق کیلئے بھرپور آواز اْٹھائیں گے ، انہوں نے پختون ایس ایف کے سابق ایڈوائزر اور گورنر ارباب سکندر خان خلیل شہید اور مرحوم ارباب مجیب الرحمان کی پختون ایس ایف کیلئے خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے زمانہ طالبعلمی میں جس طرح طلباء کو منظم کیا وہ اپنی مثال آپ ہے،اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ اٹھارویں ترمیم باچا خان کے پیروکاروں کی فتح ہے اور ہم اپنی فتح کسی کی جھولی میں نہیں ڈالیں گے،انہوں نے کہا کہ اب یہ ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختونوں کے حقوق ہمیشہ سے مرکز نے غصب کئے جبکہ اب موجودہ صوبائی حکومت نے بھی پختونوں کے خلاف مرکز کا ساتھ دیا ،انہوں نے سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چینی سفیر کے ساتھ بارہا ملاقاتوں میں انہوں نے مغربی اکنامک کوریڈور تعمیر کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاہم مرکز میں نواز شریف نے دھوکہ دیا جس کے نتیجے میں انہیں پختونوں کی بد دعائیں لے ڈوبیں، انہوں نے کہا کہ سی پیک میں صوبے کا حق نہ ملا تو یہ پختونوں کا معاشی قتل ہوگا ،سینیٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ موجودہ ایوان کی حیثیت اب کسی کھلونے سے کم نہیں جو ضمیر بیچ کر ممبر بنے وہ چھوٹے صوبوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتا،پی ٹی آئی کے16بکنے والے ارکان کے بارے میں ان کی پارٹی کو علم ہے تو کاروائی کیوں نہیں کی گئی ، انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک خود پارٹیاں بدلنے کے ماہر ہیں وہ کسی سے پوچھ گچھ نہیں کر سکتے،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کو یہ اعزاز حااصل ہے کہ یہ صوبے کی ناکام ترین حکومت ہے، بین الاقوامی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ ماحول کو ڈی فیوز کرنے کیلئے پرانا فارمولہ پھر سے لاگو کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے اور اگر ایسا ہو گیا تو خطہ ایک بار پھر بد امنی کی لپیٹ میں آجائے گا، انہوں نے کہا کہ امریکی دھمکیاں حد سے بڑھتی جارہی ہیں لہٰذا حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اپنی ناکام خارجہ و داخلہ پالیسیاں تبدیل کر کے انہیں عوامی مفاد میں بنانی چاہئیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان دونوں تباہ ہو چکے ہیں ، انہوں نے زور دیا کہ افغانستان کو بھی اپنی پالیسیاں سپر پوار کی بجائے ملک اور قوم کے مفاد میں بنانی چائیں ، میاں افتخار حسین نے واضح کیا کہ اے این پی خود ایک پارلیمانی اور جمہوری جماعت ہے اور اس کی اپنی پالیسی اور اپنا آئین موجود ہے جبکہ پارٹی اور ذیلی تنطیموں کے عہدیدار و کارکن پارٹی پالیسی کے تابع ہیں ، انہوں نے کہا کہ ذیلی تنطیموں کا اپنا فورم موجود ہے اور وہ اپنے فورم پر ہر طرح سے اظہار رائے کر سکتے ہیں ،انہوں نے ککہا کہ نقیب اللہ شہید اور پختونوں کو درپیش مسائل کی حد تک ہم نے اسلام آباد دھرنے میں شرکت کی کیونکہ پختونوں کے مسائل سے چشم پوشی نہیں کر سکتے ، البتہ اے این پی کی اپنی پالیسی اور اپنا پلیٹ فارم ہے ۔ 
اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے اپنی تقریر میں کہا کہ اے این پی ایک تحریک کا نام ہے اور اس کی تمام ذیلی تنظیمیں پارٹی ڈسپلن کی پابند ہیں،انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فاٹا کو آئندہ الیکشن سے قبل صوبے میں ضم کیا جائے ، سردار بابک نے بجلی کے ھوالے سے کہا کہ صوبے میں پیدا ہونے والی سستی بجلی واپس پختونوں کو کئی گنا مہنگی کر کے فروخت کی جاتی ہے جو اتھارویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے انہوں نے کہا کہ اے این پی ہمیشہ سے مطالبہ کرتی آئی ہے کہ بجلی کا اختیار صوبوں کے پاس ہونا چاہئے اور آئندہ الیکشن میں بھی اپنا یہ مطالبہ دہراتے رہیں گے۔