ہارون بلور کی جان لے کر اے این پی کو دیوار سے لگانے کی ناکام کوشش کی گئی، ایمل ولی خان
انتخابات متنازعہ نہ بنائے جائیں،نگران حکومت اور الیکشن کمیشن انتخابی عمل میں غیر جانبدار رہیں۔
حوصلے پست نہیں ہونگے ،مخصوص شخص کیلئے میدان خالی نہیں چھوڑیں گے۔
الیکشن میں کامیابی کے بعد کسانوں کو آسان شرائط پر زرعی آلات فراہم کئے جائیں گے۔
تمام شعبوں میں مفاد عامہ کے مطابق تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے آگے بڑھیں گے۔
نوجوان نسل کی بہتر تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے گی، پی کے58میں شمولیتی تقریبات سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور پی کے58کے امیدوار ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ الیکشن میں کامیابی کے بعد صوبے کے کسانوں کو زرعی آلات کی فراہمی اور آسان شرائط پر کھیتی باڑی کے مواقع فراہم کئے جائیں گے اور تعمیر و ترقی کے کاموں میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے حلقہ نیابت پی کے58چارسدہ میں انتخابی مہم کے دوران مختلف شمولیتی تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر درجنوں افراد نے اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا، ایمل ولی خان نے شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور باچا خان بابا کے قافلے میں شامل ہونے پر انہیں مبارکباد پیش کی ، انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کے گھر جانے کے بعد تمام رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں اور عوام کی کثیر تعداد اے این پی میں شامل ہو رہی ہے جو پارٹی پر ان کے اعتماد کا مظہر ہے ، انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کی پالیسیاں درست نہیں اور بادی النظر میں وہ کسی مخصوص جماعت کو سپورٹ کر رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کا دیوار سے لگانے کی کوشش میں ہارون بلور کو شہید کیا گیا البتہ ہمارے حوصلے پست نہیں ہونگے ،انتخابی عمل میں نگران حکومت غیر جانبدار رہے اور الیکشن کمیشن اپنے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کا نوتس لے، انہوں نے مزید کہا کہ اب بھی مختلف حلقوں میں سابق حکومت کے نمائندے اور دیگر افراد عوام کو ورغلانے کیلئے ترقیاتی کام جاری رکھے ہوئے ہیں جس کا آنے والے الیکشن پر منفی اثر پڑ سکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ نگران حکومت شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور ان انتخابات میں فریق بننے سے گریز کرے ایمل ولی خان نے کہا کہ الیکشن متنازعہ ہوئے تو یہ ملک کیلئے تباہ کن ثابت ہونگے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے گزشتہ دور میں جو اصلاحات کیں وہ صوبے کی تاریخ کا روشن باب ہے اور دوبارہ حکومت میں آ کرتمام شعبوں میں اصلاحات اور مفاد عامہ کے مطابق تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے آگے بڑھیں گے خصوصاً تعلیمی نصاب کو حقیقی معنوں میں تاریخی، سماجی،معاشرتی، سائنسی اور جدید دور کے مطابق بنانے کیلئے پوری تیاری ، سنجیدگی اور مشاورت سے کام کا آغاز کریں گے ، انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کی بہتر تربیت اور پرامن ماحول فراہم کرنے کیلئے کھیل کود کے مواقع پیدا کئے جائیں گے ، صوبے کے تجارت پیشہ افراد اور ہنر مندوں کو انتہائی آسان شرائط پر قرضے فراہم کئے جائیں گے۔