پری پول رگنگ میں ریاست ملوث ہے ،الیکشن میں فوج نے لاڈلے کی بی ٹیم کا کردار ادا کیا،میاں افتخار حسین

فوج ملک کا اہم ادارہ ہے ،اے این پی سے نفرت اور پی ٹی آئی سے محبت کرنے والی فوج قبول نہیں کریں گے۔

دھاندلی زدہ الیکشن قبول نہیں ملک میں دوبارہ شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کرائے جائیں۔

فوج ،نگران حکومت اور الیکشن کمیشن اپنے یکطرفہ کردار سے مخصوص شخص کو اقتدار میں لانے کیلئے سرگرم رہے۔

آرمی چیف ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی جانب سے پی ٹی آئی کے سپورٹرز کا کردار ادا کرنے کا نوٹس لیں۔

اے این پی کو دیوار سے لگانے اور پشتون قیادت پر پارلیمان کے دروازے بند کرنے مزید مسائل جنم لیں گے۔

آرمی جوانوں نے گن پوائنٹ پر ہمارے پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکالا، دھاندلی کے خلاف نوشہرہ میں مظاہرے سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ نے لاڈلے کی بی ٹیم کا کردار ادا کیا ہے ،فوج ملک کا اہم ادارہ ہے ،اے این پی سے نفرت اور پی ٹی آئی سے محبت کرنے والی فوج قبول نہیں کریں گے ، میرے حلقے میں میرے مخالف امیدوار کو صرف اس لئے جتوایا گیا کیونکہ اس کا فوج کے ساتھ مشترکہ کاروبار ہے، دھاندلی الیکشن مسترد کرتے ہیں ،ملک میں دوبارہ فوج و عدلیہ سے پاک آزاد اور شفاف انتخابات کرائے جائیں، فوج ، اور الیکشن کمیشن ملکی تاریخ کی بدترین دھاندلی کی ذمہ دار ہے اور آج خیبر سے کراچی تک ایک ہی آواز اور ایک ہی شکایت ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ میں حالیہ الیکشن میں دھاندلی کے خلاف ہونے والے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، مظاہرے میں اے این پی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی بڑی تعداد میں موجود تھے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ فوج ملکی ادارہ ہے جبکہ الیکشن میں فوجیوں نے فوج کو بطور پی ٹی آئی کی بی ٹیم کے طور پر پیش کیا ہے ، اے این پی سے نفرت اور پی آئی سے محبت والی فوج کسی صورت قبول نہیں کریں گے ،فوج کی ذمہ داری ملک کا تحفظ کرنا ہے اسے الیکشن میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے تھی ،فوج ،نگران حکومت اور الیکشن کمیشن نے اپنے یکطرفہ کردار سے ثابت کیا کہ وہ جانبدار ہیں اور کسی ایک مخصوص شخص کو اقتدار میں لانے کیلئے سرگرم رہے، انہوں نے کہا کہ اے این پی الیکشن سے قبل بار بار شکایات کرتی رہی کہ مختلف حلقوں میں پری پول رگنگ جاری ہے اور عوام میں نوکریاں اور ترقیاتی کام سیاسی رشوت کے طورپر جاری ہیں لیکن اس وقت بھی ہماری شکایات نہیں سنی گئیں کیونکہ سب ادارے اس سازش میں شریک تھے،انہوں نے کہا کہ تحقیقات کا مطالبہ ہوا تو فوج کی بھی بدنامی ہو گی،آرمی چیف ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی جانب سے پی ٹی آئی کے سپورٹرز کا کردار ادا کرنے کا نوٹس لیں اور تحقیقات کریں کہ ان اہلکاروں کواس کام کیلئے کہاں سے احکامات ملتے رہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ الیکشن سیاسی جماعتوں کا کام ہے اور اگر فوج اپنی نگرانی میں کرائے گی تو دھاندلی کی صورت میں اسے ان الزامات سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جا سکتا،
انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں اس قدر ناکام اور جانبدار نگران حکومت کبھی نہیں آئی، میاں افتخار حسین نے کہا کہ نتائج رات8بجے مکمل ہو گئے تھے جن کے مطابق میں اس حلقے سے جیت چکا تھا البتہ ڈیوٹی پر موجود عملہ اور فوجی اہلکاروں نے نتائج روکے جس کے بعد مجھے ہرایا گیا ،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سپورٹرز فوجی اہلکار ہمارے لوگوں کو سرخ ٹوپی اور بیج لگانے کی وجہ سے ووٹ پول کرنے سے روکتے رہے،جبکہ اس کے برعکس مخالف جماعت کے کارکنوں کو ہر طرح کی آزادی تھی،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اگر آئی ایس آئی ، ایم آئی اور دیگر ایجنسیاں ایمانداری سے رپورٹ دیں تو حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی، انہوں نے کہا کہ آج جو حالات پیدا کر دیئے گئے ہیں ان کے نتیجے میں ماضی میں بھی ملک دو لخت ہو چکا ہے ،انہوں نے کہا کہ ہم اس دھرتی پر امن چاہتے ہیں لیکن ہمیں سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور کر دیا گیا، انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے ہمیں دیوار سے لگانے کی بجائے ملک میں شفاف انتخابات کرائے جائیں ،لاڈلے کو زبردستی ملک پر مسلط کرنے کے نتائض خطرناک ہونگے ۔