پختونوں کو اتحاد کی ضرورت ہے ،تشدد کا جواب عدم تشدد کے پرچار سے دیں گے، امیر حیدر خان ہوتی
سابق حکومت نے ادارے تباہ کردیئے، آنے والی نئی حکومت کو کئی چیلنجز کا سامنا کرناہوگا۔
بی آر ٹی بارے عدالتی فیصلے نے ہمارے خدشات اور تحفظات درست ثابت کر دیئے۔
گزشتہ دور حکومت کے تمام منصوبوں میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقات کر کے قوم کو آگاہ کیا جائے۔
پختون 25جولائی کو اپنے ووٹ کی طاقت سے جھوٹے دعوے کرنے والوں سے بدلہ لیں گے۔
اقتدار میں آ کر امن ، تعلیم ،صحت اور روزگار اولیں ترجیح ہونگے، نوشہرہ کلاں میں جلسہ عام سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ 25جولائی کو کامیابی حاصل کر کے دشمن کو شکست دیں گے ، اگر کسی کا یہ خیال ہو کہ وہ ہمیں ڈرا کر میدان سے آؤٹ کر دے گا تو یہ اس کی بھول ہے ، میدان خالی نہیں چھوڑیں گے ،صوبہ معاشی طور پر دیوالیہ ہے اورخالی خزانے کو اپنے پیروں پر کھڑا کر کے پختونوں تک ترقی و خوشحالی کے ثمرات پہنچائیں گے، فرد واحد کیلئے نہیں بلکہ قوم کی بقاء کیلئے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ،نوشہرہ کلاں میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ حکومت میں آ کر مرکز کے پاس رہ جانے والے صوبے کے حقوق حاصل کریں گے ،ہم باچا خان بابا کے عدم تشدد کے فلسفے کے پیروکار ہیں اور تشدد کا جواب تشدد سے دینے کی بجائے عدم تشدد کا ہتھیار اپنائیں گے،اس موقع پر این اے25سے اے این پی کے امیدوار ملک جمعہ خان اور پی کے63کے امیدوار شاہد خٹک نے بھی خطاب کیا ،انہوں نے کہا کہ ڈرنے اور جھکنے والے نہیں ،الیکشن میں جائیں گے اور کامیاب ہو کر نوشہرہ ہسپتال کو جدید بنیادوں پر استوار کیا جائے گا تاکہ یہاں سے مریضوں کو پشاور منتقل نہ کرنا پڑے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی حکومت میں آ کر عوام کی محرومیوں کا ازالہ کرے گی ، ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی اور ہر حلقہ میں ایک کالج کے وعدے کو عملی جامہ پہنائے گی ، مرکز سے اپنے حقوق حاصل کریں گے اور ترقی کے نئے دور کا آغاز کریں گے، انہوں نے کہا کہ اے این پی کامیابی کے بعد بے روزگاری کے خاتمے پر توجہ دے گی اور نوجوانوں کو 10لاکھ تک بلاسود قرضے فراہم کرے گی تاکہ وہ اپنے لئے روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں، انہوں نے بی آرٹی منصوبے کو نیب کے حوالہ کرنے کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بلین سونامی ٹری،پشاور بیوٹی فیکیشن اور مالم جبہ اراضی سکینڈل سمیت سابق حکومت کے تمام بڑے منصوبوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں ، امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ہائی کورٹ کے فیصلے نے ہمارے اعتراضات کو درست ثابت کردیاہے، تبدیلی سرکار کے دورمیں سرکاری خزانے کو شیر مادر سمجھ کر لوٹا گیاہے نیب سمیت تمام ادارے تحریک انصاف کی سابق حکومت کے بڑے منصوبوں کی شفاف تحقیقات کریں، انہوں نے کہاکہ آنے والی نئی حکومت کو کئی چیلنجز کا سامنا کرناہوگا سب سے بڑا چیلنج خالی خزانہ اوربیرونی قرضے ہیں جنہیں چکانے کیلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، انہوں نے کہاکہ سابق حکومت نے ادارے تباہ کردیئے پانچ سال تک مخص کھوکھلے دعوؤں سے تبدیلی کا ڈھنڈورا پیٹا گیا،انہوں نے کہا کہ اے این پی اس صوبے کے عوام کے ساتھ کی گئی ذیادتیوں کا حساب لے گی اور اقتدار میں آکر محرومیوں کا ازالہ کیاجائے گا ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کی کامیابی یقینی ہے اور حکومت میں آ کر تعلیم ، صحت، امن کا قیام اور بے روزگاری کے خاتمے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔