لیکشن متنازعہ ہو رہے ہیں، ملک میں انصاف بائی چوائس ہو چکا ہے، میاں افتخار حسین

ملک کے خلاف سازشوں کی مخالفت کی جائے گی،پی ٹی آئی الیکشن میں حصہ لینے کی اہل نہیں تھی۔

الیکشن ملتوی کرانے کی کوششیں تاحال جاری ہیں،ایک لاڈلے کیلئے راہ ہموار کی جارہی ہے۔

جسٹس شوکت کے بیان اور ملک میں پیش آنے والے واقعات سے قوم میں سراسیمگی پھیل چکی ہے۔

اے این پی سمیت کسی بھی جماعت نے بائیکاٹ کا فیصلہ نہ کر کے دانشمندی کا ثبوت دیا۔

سیاست سے اخلاقیات کا جنازہ نکالنے والوں کا یوم حساب قریب ہے، پی کے65میں انتخابی جلسوں سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک کے خلاف سازشوں کی مخالفت کی جائے گی ، جہاں انصاف بائی چوائس ہو وہ ملک کبھی نہیں چل سکتا ،الیکشن کمیشن کے آئین کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرانے والی جماعت جنرل الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتی ،لیکن پی ٹی آئی تمام قوانین سے مبرا ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپین خاک خٹک نامہ اور علی بیگ پی کے65نوشہرہ میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا کہ الیکشن ملتوی کرانے کی کوششیں تاحال جاری ہیں،ایک مخصوص لاڈلے کیلئے راہ ہموار کی جارہی ہے الیکشن متنازعہ ہو رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی سزا سے شروع ہونے والی کوششیں ، پشاور ، بنوں اور مستونگ دھماکوں کے بعد بلاول پر پابندی تک پہنچیں لیکن اے این پی سمیت کسی بھی جماعت نے بائیکاٹ کا فیصلہ نہ کر کے دانشمندی کا ثبوت دیا ،انہوں نے کہا کہ عدالت نے متنازعہ فیصلے کر کے خود کو متنازعہ بنا دیا ہے ،بادی النظر میں ایسے فیصلے کسی ایک مخصوص شخص کی فیور میں کئے جارہے ہیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ عدالتی فیصلے پسند نا پسند کی بنیاد پر ہورہے ہیں جو کسی صورت ملکی مفاد میں نہیں ، انہوں نے جسٹس شوکت صدیقی کے بیان پر بھی حیرت اور افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں پیش آنے والے واقعات سے قوم میں سراسیمگی پھیل چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی الیکشن میں حصہ لینے کیلئے اہل ہی نہیں لیکن لاڈلے پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا،انہوں نے کہا کہ آج جو حالات پیدا کئے جا رہے ہیں ماضی میں ایسے واقعات سے ملک دولخت ہو چکا ہے، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے انگریز دور سے آج تک ہمیشہ قربانی دی ہے ،ہمارے آباؤ اجداد نے ہماری آزادی کیلئے جانیں قربان کیں اور آج پختونوں کو ان کی قربانیوں کے نتیجے میں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ وزارت عظمی کا خواب دیکھنے والے ایک شخص نے سیاست کو پراگندہ کر دیا ہے ، گالی گلوچ اور خواتین کو میدان میں نچانے والے سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے،اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا گیا ہے ،پختونوں کا مستقبل تباہ کرنے میں کپتان کا ہاتھ ہے،انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک پانچ سال وزیر اعلیٰ رہے اور سیاسی کارکنوں کو گالیاں دے رہے ہیں ،اے پی ایس کے شہداء کا تین دن تک نہ پوچھنے والا بھی خود کو وزیر اعلیٰ کہنے پر فخر محسوس کرتا رہا جبکہ یہ اس کیلئے ڈوب مرنے کا مقام تھا،انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے صوبے کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ،اے این پی اقتدار میں آ کر خزانے کو پاؤں پر کھڑا کرے گی جسے سابق وزیر اعلیٰ نے لوٹ لیا ہے ، انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ انتخابی مہم میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھین اور خواتین کی انتخابی عمل میں شرکت یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن کوششیں کی جائیں۔