عوام کا استحصال کرنے والوں کے سیاسی تابوت تیار ہیں۔میاں افتخار حسین

پچیس جولائی کو عوام اپنے ساتھ دھوکہ کرنے والوں کا ووٹ کے ذریعے احتساب کریں گے۔

حکومت میں آ کر بے روزگاری کے خاتمے اور بجلی پیداوار کے منصوبوں پر توجہ دی جائے گی۔

سابق حکومت کی غیر ذمہ داری اور ناتجربہکاری کا خمیازہ میٹرک کے طلباء کو بھی بھگتنا پڑا۔

کرسی کی سیاست کرنے والوں کا نظریاتی سیاست سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔

پارٹی کارکن آپس میں اتحاد واتفاق کی فضا برقرار رکھیں۔پبی میں انتخابی جلسوں سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ5سال تک عوام کا استحصال کرنے والوں کے سیاسی تابوت تیار ہیں اورعوام25جولائی کو ان پر فاتحہ پڑھ کر ہمیشہ کیلئے دفن کر دیں گے ۔حکومت میں آ کر بے روزگاری کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے اور بجلی پیداوار کے منصوبوں پر توجہ دی جائے گی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاجبر پبی میں بڑے شمولیتی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر پی ٹی آئی کی کئی اہم سرکردہ شخصیات نے اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائین اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئے روزعوام کی بڑی تعداد اے این پی میں شامل ہو رہی ہے ،ماضی میں سابق وزیر اعلیٰ نے جس بری طرح اس حلقے کو نظر انداز کیا اس کی صوبے کی سیاسی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ، انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کے دور میں اس حلقے کے ایم پی اے نے منفرد ریکارڈ قائم کیا ہے اور پانچ سال منہ بند کرکے اسمبلی جاتے رہے ،انہوں نے حالیہ میٹرک کے نتائج پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اے این پی کے دور میں میٹرک طلباء ٹاپ ٹین میں بھی موجود ہوتے تھے لیکن بد قسمتی سے آج کوئی طالب علم ٹاپ20میں بھی نہیں ،انہوں نے کہا کہ تعلیمی ایمرجنسی کا پول کھل گیا ہے سرکاری سکولوں کے ساتھ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو بھی تباہ حال کر دیا گیا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی حکومت میں آ کر ایک بار پھر تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کرے گی جس کے ثمرات عوام تک پہنچیں گے،انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ کا ماضی گواہ ہے انہوں نے صرف کرسی کی سیاست کی اور نظریاتی سیاست سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ عوام تبدیلی کی حقیقت جان گئے ہیں اور انہیں اپنے ساتھ ہونے والے دھوکے کا احساس ہو چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ پولیس کو غیر سیاسی کہنے والے پرویز خٹک خود تھانوں سے قتل کے ملزم چھڑاتے رہے ،حلقے کے عوام کی ضروریات کو پس پشت ڈال کر نوکریاں فروخت کی گئیں ، سابق حکومت پانچ سال تک وقت ضائع کرتی رہی اور اپنی تمام توجہ خزانہ لوٹنے پر مرکوز رکھی ، کسی حکومت کی ناکامی کا اس سے بڑا ثبوت اورکیا ہوسکتا ہے کہ اس کے چار سال تک مسلسل بجٹ لیپس ہوتے رہے ،انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آ کر بجلی کی بوسیدہ ٹرانسمیشن لائنیں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی پیداوار کے منصوبوں پر توجہ دی جائے گی، انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ آپس میں اتحاد واتفاق کی فضا برقرار رکھیں اور اپنی تمام توانائیاں الیکشن کی تیاری کیلئے صرف کریں۔