سابق ایم پی اے عبید مایار اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت عوامی نیشنل پارٹی میں شامل ہوگئے

شمولیت سے اے این پی نہ صرف مضبوط ہوگی بلکہ حلقہ51 سیاسی اورمعاشرتی لحاظ سے ایک پیچ پر آگیاہے۔

سابق وزیراعلیٰ کے خلاف نیب کی تحقیقات کو جلد ازجلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے ۔

اقتدار میں آنے کے بعد سابق حکومت کے خلاف کرپشن کی فائلیں کھولیں گے۔

نواز شریف کے خلاف فیصلے کے اثرات ضرور سامنے آئیں گے، امیر حیدر خان ہوتی

عمران خان اور ان کی ٹیم نے مایوسی کے سوا کچھ نہ دیا، عبید مایار کی بات چیت

پشاور ( پ ر ) تحریک انصاف کے سابق ایم پی اے عبید مایار اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت عوامی نیشنل پارٹی میں شامل ہوگئے اپنی شمولیت کا اعلان انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی کی موجودگی میں کیا جنہوں نے سابق ایم اپی اے عبید مایار،عدنان باچہ اور ان کے دیگر ساتھیوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور باچا خان کے قافلے میں شمولیت پر مبارکباد پیش کی، اے این پی کے صوبائی نائب صدر جاوید یوسفزئی، ضلعی صدر اور حلقہ پی کے 51کے امیدوار حمایت اللہ مایار، جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان،پبلک پولیس سیفٹی کمیشن کے چیئرمین حاجی عبدالعزیزخان،حاجی سبزعلی خان سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے، اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی میں ان کی شمولیت سے نہ صرف پارٹی مضبوط ہوگی بلکہ حلقہ51 سیاسی اورمعاشرتی لحاظ سے ایک پیچ پر آگیاہے اوراس کے اثرات 25جولائی کے انتخابات میں محسوس ہوں گے، انہوں نے کہاکہ عبید مایار کا خاندان بنیادی طورپر خدائی خدمت گار اوران کے باپ داد ا کے ساتھی ہیں اوران کے لئے آج خوشی کی انہتانہیں ہے کہ ایک بار یہ خاندان باچاخانی کے ساتھ وابستہ ہوگئے بعدازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر نے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے خلاف نیب کی تحقیقات کو جلد ازجلد منطقی انجام تک پہنچانے،بلین ٹری سونامی، بی آرٹی، مالم جبہ اراضی کیس سمیت پشاور بیوٹیفیکشن منصوبے کے فائلوں پر بھی جلد ازجلد کاروائی مکمل کرنے کا مطالبہ کیا اورکہاکہ کرپشن کے خلاف زمین آسمان ایک کرنے والوں نے پانچ سال تک کچھ نہ کیا پرویزخٹک صوبے کے وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے نیب میں حاضری لگاتے رہے جبکہ تبدیلی سرکار تاریخ کی پہلی حکومت تھی کہ اپوزیشن کی بجائے خود ان کے وزراء اور پارٹی اراکین اسمبلی ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگاتے رہے انہوں نے کہاکہ جس پارٹی کے لیڈر کارکنوں کو ان کا جائز مقام نہیں دے سکتے ان سے عوام کے لئے کچھ کرنے کی توقع رکھنا فضول ہے انہوں نے کہاکہ آنے والی نئی حکومت کو کئی چیلنجز کا سامنا کرناہوگا سب سے بڑا چیلنج خالی خزانہ اوربیرونی قرضے ہیں، انہوں نے کہاکہ سابقہ حکومت نے ادارے تباہ کردیئے پانچ سال تک مخص کھوکھلے دعوؤں سے تبدیلی کا ڈھنڈوراپیٹا گیا، امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی اس صوبے کے عوام سے کی گئی ذیادتیوں کا حساب کتاب لے گی ،اقتدار میں آکر محرومیوں کا ازالہ کیاجائے گا،انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ احتساب عدالت کے فیصلے کے اثرا ت ضرور ہوں گے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ میاں نوازشریف وطن واپسی کے حوالے سے کیا فیصلہ کرتے ہیں۔عبید مایار نے اپنے خطاب میں کہاکہ انہوں نے اے این پی کا جرگہ قبول کیا ہے اوروہ بایک کارکن کی حیثیت سے اے این پی میں شامل ہورہے ہیں ان کاکہناتھاکہ عمران خان اور ان کی ٹیم نے مایوسی کے سوا کچھ نہ دیا ،پی ٹی آئی کی حکومت میں تمام محکموں میں کرپشن کے ریکارڈ توڑ ڈالے گئے سابق وزیر تعلیم محمد عاطف خان دس سال قبل کچھ بھی نہیں تھا ان کاکہناتھاکہ سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی نے مردان کے عوام کو ہمیشہ عزت او رمحبت دی ہے اورآج بھی لوگ ان کی محبت پر فخر محسوس کررہے ہیں ۔