داؤد اچکزئی پر حملہ الیکشن بائیکاٹ پلان کا حصہ ہے، میاں افتخار حسین
صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے ،اے این پی کے رہنماؤں کو سیکورٹی کے نام پر گھروں میں محصورنہ کیا جائے۔
دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اے این پی کو الیکشن سے باہر کرنے کیلئے ہیں۔
مخصوص شخص کو وزارت عظمیٰ تک با آسانی پہنچانے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کا راستہ روکا جا رہا ہے۔
اے این پی میدان خالی نہیں چھوڑے گی اور ملک کی تباہی کی کسی صورت اجازت نہیں دے گی۔
حکومت اور الیکشن کمیشن شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، پی کے65میں انتخابی جلسوں سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ قلعہ عبداللہ میں اے این پی کے رہنما داؤد خان اچکزئی پر حملہ بزدلانہ اور قابل مذمت فعل ہے ، صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے ،اے این پی کے رہنماؤں کو سیکورٹی کے نام پر گھروں میں محصور کرنے کی بجائے انہیں مکمل تحفظ فراہم کر کے انتخابی مہم میں شرکت کا موقع دیا جائے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے65میں اپنی انتخابی مہم کے دوران مختلف مقامات پر منعقدہ شمولیتی اجتماعات اور انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر درجنوں افراد نے مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں شامل ہونے والے افراد اے این پی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور اقتدار میں آ کر ان کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچائیں گے، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اے این پی کو الیکشن سے باہر کرنے کیلئے ہیں اور 2013والی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ سینیٹر داؤد خان اچکزئی پر حملہ الیکشن کو بائیکاٹ کی طرف لے جانے والے پلان کا حصہ ہے ، لہٰذا حکومت اپنی غیر جانبداری ثابت کرے اور معاملے کی تحقیقات کرائے ، انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات انتہائی آسان ہے بشرطیکہ حکومت سنجیدہ ہو ،میاں افتخار حسین نے واضح کیا کہ پہلے نواز شریف کو ایسے وقت پر سزا دی گئی تاکہ اشتعال میں آ کر وہ الیکشن کا بائیکاٹ کر دیں تاہم ن لیگ نے دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے ایسا نہیں کیا ،جس کے بعد بلور خاندان کے چشم و چراغ کی جان لی گئی اور پھر بنوں اور مستونگ میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی کاروائیوں کے بعد بلاول کو بھی مسدود کر دیا گیا تاکہ تمام سیاسی جماعتیں الیکشن کا بائیکاٹ کر دیں اور ایک مخصوص شخص کو وزارت عظمیٰ تک با آسانی پہنچایا جا سکے، انہوں نے کہا کہ اے این پی میدان خالی نہیں چھوڑے گی اور ملک کی تباہی کی کسی صورت اجازت نہیں دے گی، انہوں نے کہا کہ حالیہ صورتحال اور دہشت گردی کے واقعات حکومتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور الیکشن الیکشن کو شفاف اور غیر جانبدار بنانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے کارکن پہلے سے زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ میدان میں ہیں اور فتح اے این پی کا مقدر ہے۔