کارکنوں کو گالیاں دینے والے قومی مجرم ہیں،الیکشن کمیشن سیاسی منظر نامے سے غائب ہے ،میاں افتخار حسین
الیکشن انعقاد کا کریڈٹ جان ہتھیلی پر رکھ کر انتخابی میدان میں موجود سیاسی جماعتوں کو جاتا ہے ۔
جو ذمہ داری الیکشن کمیشن اور نگران حکومتوں کی تھی وہ سیاسی جماعتوں کے کارکن نبھا رہے ہیں۔
لاڈلے کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور باقی سیاسی جماعتوں کا راستہ روکنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا گیا ۔
 نظریاتی اختلاف کے باوجود دیگر جماعتوں کی خواتین اور کارکنوں کی عزت و احترام ہم پر لازم ہے۔
الیکشن سبوتاژ کرنے کی کوششیں تاحال جاری ہیں، پی کے65میں انتخابی جلسوں سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے انتخابات میں حصہ لینے والے سیاسی جماعتوں کے قائدین اورکارکنوں کی ہمت اور حوصلے کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ جو ذمہ داری الیکشن کمیشن اور نگران حکومتوں کی تھی وہ سیاسی جماعتوں کے کارکن نبھا رہے ہیں ،امیدواروں کو سیکورٹی فراہم نہیں کی گئی جس کے نتیجے میں تین اندوہناک واقعات پیش آ چکے ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے65میں اپنی انتخابی مہم کے دوران تاروجبہ میں بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ لاڈلے کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور باقی سیاسی جماعتوں کا راستہ روکنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا گیا لیکن امیدواروں اور کارکنوں کے جذبے کی وجہ سے یہ کوششیں ناکام ہوئیں ، انہوں نے کہا کہ الیکشن کے انعقاد کا کریڈٹ سیاسی جماعتوں کو جاتا ہے کہ قربانیاں دینے اور جانیں ہتھیلی پر رکھ کر انتخابی میدان میں موجود ہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ سیاست سے اخلاقیات کا عنصر ختم ہو چکا ہے اور عمران خان اور پرویز خٹک نے اپنے جلسوں میں سیاسی کارکنوں کو غلیظ اور فحش القابات سے نوازنا شروع کر دیا جس سے ان کی شکست کی بوکھلاہٹ عیاں ہو رہی ہے،انہوں نے کہا کہ سیاست میں گالی کا کلچر متعارف کرانے والے قوم کی رہنمائی نہیں کر سکتے بلکہ یہ قومی مجرمان ہیں اور ایسے رویوں سے معاشرے میں برداشت کا مادہ ختم ہو چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ایسے افراد کا راستہ روکنے کا وعدہ کیا تھا ، انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے اتنی تباہی اور کپتان کی فحش نعرے بازی کے باوجود الیکشن کمیشن کا کہیں نام و نشان تک نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ ایک شخص کو وزیر اعظم بنانے کیلئے باقی سیاسی جماعتوں پر حملے اور انہیں انتخابی میدان سے باہر کرنے کی کوششوں سے ان عناصر کے شکوک و شبہات کو تقویت مل رہی ہے جنہوں نے شفاف اور غیر جانبدار الیکشن پر سولات اٹھائے تھے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی کبھی بھی سیاست میں اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے چھوڑے گی ، نظریاتی اختلاف کے باوجود دیگر جماعتوں کی خواتین کو اپنی ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں جیسیااحترام اور کارکنوں کی عزت ہم پر لازم ہے،اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنے کیلئے عوام25جولائی کو اپنے ووٹ کے ذریعے انہیں مسترد کریں ،
میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہشت گردی کی حالیہ لہر اور آئے روز ہونے والے واقعات اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ الیکشن کو سبوتاژ کیا جائے تاہم اے این پی بہر صورت میدان میں ڈٹی رہے گی اور انتخابی مہم اور امیدواروں کو تحفظ فراہم کرنا حکومتوں و الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے جس میں وہ ناکام نظر آ رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی یہ بڑی قربانی ہے کہ سیکورٹی کی اس صورتحال کے باوجود الیکشن میں اتر رہی ہیں لہٰذا نگران حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے اور انتخابات کو شفاف اور غیرجانبدارانہ بنانے کی اپنی ذمہ داری نبھائے ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ذریعے الیکشن کو سبوتاژ کرنا جمہوریت ڈی ریل کرنے کی کوشش ہے