پی ٹی آئی بیرونی قوتوں کی آلہ کار ہے، مذہبی جماعتیں اسلام کے نام پر اسلام آباد چاہتی ہیں، سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ایم پی اے سردار حسین بابک نے کہاہے کہ اے این پی نے اپنے سابقہ دور حکومت میں تمام تر نا مساعد حالات کے باوجود صوبے میں بے شمار تر قیاتی کام مکمل کر کے صوبے کو تر قی کی راہ پر گامزن کر دیا تھا ، اے این پی نے اپنے دور حکومت میں دہشت گر دوں کا راستہ روک کر اپنے قائدین سمیت ہزاروں کار کنوں کی قر بانی دے کر صوبے میں آمن قائم کیا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے حلقہ پی کے 77کے یونین کونسل ناواگئی حجرہ منڈیزی اور گاؤں لاڈوان میں مختلف شمولیتی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ناواگئی میں محسن خان ،شاہ وزیر خان اور لاڈوان میں عیسی ٰ جان نے اپنے خاندانوں اور ساتھیوں سمیت مسلم لیگ ن سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔اجتما عات سے نائب ناظم اشتر خان،ضلعی صدر محمد کر یم بابک،فضل ملوک اور امیر سلطان خان نے بھی خطاب کیا۔
سر دار حسین بابک نے اپنے خطاب میں مزید کہاکہ اے این پی نے قدرتی اور زمینی آفات کے باوجود صوبے میں سکولوں ،کالجوں،سڑکوں،پلوں اور دیگر تر قیاتی کاموں کا جال بچھاکر پختونوں کو تر قی دی ۔انہوں نے کہاکہ تبدیلی کے نام نہاد علمبردار سن لیں کہ باچا خان کے پیرو کار 2008میں تبدیلی لاچکے ہیں اور اب صوبے کو کسی اور تبدیلی کی ضرورت نہیں۔سردار حسین بابک نے کہاکہ اے این پی کے دور اقتدار سے پہلے حلقہ پی کے 77میں صرف تین ہائیر سیکنڈری سکول تھے جس کی تعداد ہم نے بڑھا کر 27کر دی اور اب ان سکولوں میں پختونوں کے بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کر ر ہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ تعلیمی اداروں کوبنیادی سہولیات مہیا کر نا،اساتذہ کو اپ گر یڈ کر نا،پولیس کو جدید سہولیات دینا اے این پی کے کار نامے ہیں۔
سردار حسین بابک نے کہاکہ مذہبی جماعتیں اسلام کے نام پر اسلام آباد چاہتی ہیں جبکہ پی ٹی آئی بیرونی قوتوں کے اشاروں پر کام کر ر ہی ہے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت نے بونیر میں نام نہاد یونیورسٹی کا اعلان کیاہے اور اسے صرف 6کروڑ روپے فنڈ دیا ہے جس سے پرائمری سکول بھی تعمیر نہیں ہو سکتا ۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اے این پی کے سر خ جھنڈے تلے متحدہو جائیں کیونکہ اے این پی ہی پختونوں کی تر قی اور خوشحالی کے لئے کام کر ر ہی ہے جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے پاس پختونوں کی تر قی اور خوشحالی کا کو ئی منصوبہ نہیں۔