نقیب اللہ کے قاتلوں کی سرپرستی کرنے میں کوئی ’’بڑا ہاتھ‘‘ ملوث ہے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ایک بار پھر پرزور مطالبہ کیا ہے کہ نقیب اللہ کے قتل میں ملوث راؤ انوار سمیت دیگر ملزموں کو فوری طور پر گرفتار کر کے انہیں پھانسی پر لٹکایا جائے ،کراچی ، لاہور ، وزیرستان سمیت ملک کے تمام حصوں میں پختونوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیات آباد پشاور میں نقیب اللہ شہید کیلئے بنائی گئی تحریک کے مظاہرے میں شرکت کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر مرکزی نائب صدر بشری گوہر ، جمیلہ گیلانی، یاسمین ضیا اور شگفتہ ملک سمیت دیگر قائدین بھی ان کے ہمراہ تھے، میاں افتخار حسین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جنگل کا قانون ہے ،عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنے والے خود قاتل بن چکے ہیں ، اور نقیب اللہ کی شہادت سندھ کی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے،انہوں نے کہا کہ ظلم کی جب انتہا ہوتی ہے تو تبدیلی آتی ہے اسی طرح نقیب اللہ کا خون بھی رنگ لایا اور سوشل میڈیا نے قوم کے سامنے حقائق پیش کر کے نقیب اللہ کی بے گناہی ثابت کی ، انہوں نے کہا کہ ہم یہاں اس لئے اکٹھے ہوئے ہیں کیونکہ بے گناہ جہاں بھی قتل ہو ہمیں درد محسوس ہوتا ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ نقیب اللہ کی شہادت کے پیچھے صرف راؤ انوار نہیں بلکہ پورا گینگ ملوث ہے اور بادی النظر میں اس گینگ کو صوبائی حکومت کی اشیرباد حاصل ہے ،انہوں نے کہا کہ ملزموں کو فوری طور پر گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، انہوں نے کہا کہ پولیس نے ایک بار راؤانوار کو پکڑ کر اسے چھورڑاکیوں تھا؟، انہوں نے کہ پختون نوجوان کو شہید کر کے ظلم اور زیادتی کی انتہا کر دی گئی ہے ، اے این پی پختونوں کے ماورائے عدالت قتل پر خاموش نہیں رہے گی ،انہوں نے کراچی میں نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کے واقعے کو پختونوں کے خلاف سازش قراردیتے ہوئے کہاکہ نقیب اللہ محسود پختون قوم کا شہیدہے، سندھ سے ایسے واقعات کے پیش آنے سے خدشات جنم لے رہے ہیں انہوں نے کہاکہ پختونوں نے امن کی خاطر اور دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دی ہیں دہشت گردی کے شکار پختونوں کو دہشت گردی کے بھینٹ چڑھایاجارہاہے انہوں نے چیف جسٹس کی طرف سے واقعے کی ازخود نوٹس لینے کا خیر مقد م کرتے ہوئے کہاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے تمام پارٹیوں کو مل کر لائحہ عمل طے کرناہوگاتاکہ مستقبل میں نقیب اللہ جیسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔قصور اور خیبر پختونخوا میں بچیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دہشت گردی کی ایک نئی شکل ہے جس کی وجہ سے بچوں کے ساتھ ساتھ والدین اور اساتذہ بھی سہمے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قصور واقعے کے ملزم کا گرفتار ہونا خوش آئند ہے لیکن وزیراعلیٰ پنجاب بتائیں کہ اس سے قبل ہونے والے واقعات کا کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قصور واقعہ پر پنجاب حکومت سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے پختونخوا میں واقعات پر چپ سادھے ہوئے ہیں۔ ڈی آئی خان، مردان اور خوشمقام نوشہرہ میں بچیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی ایف آئی آر تک نہیں کاٹی گئی جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت مجرموں پر پردہ ڈال رہی ہے۔ جرائم کی بیخ کنی کرنے کی بجائے اس کی حوصلہ آفزائی کرنے والے حکومت کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے۔