کراچی ۔عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری میاں افتخار حسین نے سہراب گوٹھ میں شہید نقیب اللہ محسود کے اظہار یکجہتی کیمپ میں شرکت کی ، شہید کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی ، اس موقع پر صوبائی صدر سینیٹر شاہی سید ،جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری سمیت دیگر قائدین اور کارکنان کی بہت بڑی تعداد بھی ان کے ہمراہ تھی ،اس موقع پر میاں افتخا ر حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ،نقیب اللہ محسود کو جھوٹے الزامات لگاکر شہید کیا گیا ،سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہمیں کیوں ماراجارہا ہے ،مظلوم قبائل نے ملک کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑا،افسوس کہ دہشت گرد بھی ہمیں مار رہے ہیں اور وردی والے بھی ہمیں ماررہے ہیں،ہمیں سینے سے لگایا جائے ،پختونوں نے ملک کی آزادی کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دیں آج حکومتوں کے مزے لینے والے ہمیں دعائیں دیں،ہمارے بچوں ،جوانوں ، بزرگوں اور خواتین نے ملک کے لیے لازوال قربانیاں دیں راؤ انوار کے پیچھے کوئی ایک شخصیت نہیں بلکہ مضبوط لوگوں کی بڑی تعداد ہے ،ہم راؤ انوار کو گرفتار کرکے اس کے سینے میں چھپے ایک ایک راز سے قوم کو آگاہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں،محافظ کی وردی میں قوم کے بچوں کو مارنے والا کسی صورت قابل معافی نہیں ہے،تحقیقات کی جائیں کہ اسلام آباد ائیر پورٹ سے راؤ انوار کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا ،راؤ انوار اور اس کے تمام ساتھیوں کو عبرت ناک سزا دی جائے ،نقیب اللہ محسود کے لیے آواز اٹھانے والے ہر آواز پاکستانی کے شکر گزار ہیں،نقیب اللہ محسود کے لیے آواز اٹھانے والے ہر پنجابی، سندھی،بلوچ ،سرائیکی،اردو بولنے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،نقیب اللہ محسود کے لیے آواز نہ اٹھانے والا بے غیرت ہے ،ہم پچھلی کئی دہائیوں سے کٹ مررہے ہیں،ہم امن و محبت کا پرچار کرنے والے لوگ ہیں،ہم جھکنے یا بکنے والے نہیں آخری دم تک آپ کے شانہ بشانہ رہیں گے ، ہم پورے مجمع کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،محٖافظ کے لباس میں قوم کے بچوں کو مارنا کسی ریاست کی پالیسی نہیں ہوسکتی ،نقیب اللہ محسود کے والدین کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ تنہاء نہیں بلکہ ہم سب ان کے ساتھ ہیں، ارباب اختیار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نقیب اللہ محسود کو انصاف دلانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں،کراچی۔اگر نقیب اللہ کے قاتلوں کو نہیں پکڑ سکتی تو مرکزی و صوباء حکومتیں مستعفی ہو جائیں،عوام کی عزت و آبرو کی حفاظت نا کرنے والوں کو حکمرانی کرنے کا کوئی حق نہیں،انہوں نے مذید کہا کہ نقیب اللہ محسود کی شہادت کی بدولت ظالم بے نقاب ہوا،قبائلیوں نے اپنے گھر بار چھوڑ ریاستی اداروں کو امن قائم کرنے کا موقع فراہم کیا،راؤ کی کیا مجال کے ہمیں نشانہ بنائے سرپرستوں کو پکڑا جائے،بتایا جائے نقیب اللہ محسود کا قاتل اب تک کیوں آزاد ہے،اگر راؤ انور کو چھپ کر ٹھکانہ لگایا گیا تو ہم اس کو راؤ کا ساتھی سمجھیں گے اصل دہشت گردوں کی سرپرستی کی جاتی ہے اور بے گناہ پختونوں کو دہشت گرد قرار دیکر مارا جاتا ہے،ہم پختون ہیں مر سکتے ہیں مگر جھک نہیں سکتے نقیب اللہ محسود قوم کا ہیرو ہے اس کے ساتھ کیا سلوک گیا ہم شہیدوں کے ٹکڑے جمع کرنے والے لوگ ہیں،بد قسمتی سے سب سے زیادہ قربانیاں ہم نے دی ہیں اور بدنام بھی ہمیں کیا گیا،ہم حسینیت کے علمبردار ہیں کٹ سکتے ہیں مگر جھک نہیں سکتے، ایک ایک ظلم کا حساب لیں گے،راؤ انوار کا سرپرست کوئی بھی ہو مگر ہمیں نقیب اللہ محسود کے خون کا حساب چاہئے،نقیب اللہ محسود محبت کی علامت اور راؤ انور نفرت کی علامت بن کا ہے،نقیب اللہ محسود کے لیے آواز اٹھانے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،ہم سب کو اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا،نقیب اللہ محسود کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور انہیں ہر قسم کی یقین دلاتے ہیں،کیپمپ میں موجود تمام لواحقین سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں،مرکزی صدر اسفندیار ولی خان علالت کی وجہ سے کیمپ میں شرکت کرنے سے قاصر ہیں