ممبران اسمبلی باغی ہونے لگے، صوبے کے فنڈز ہارس ٹریڈنگ کیلئے استعمال ہو رہے ہیں،سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ حکومت نے صوباے کے محدود وسائل کو ذاتی جاگیر سمجھ رکھا ہے اور انہیں سیاسی بنیادوں پر تقسیم کر کے انصاف کی دھجیاں بکھیر دی ہیں ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبے کے فنڈز ہارس ٹریڈنگ کیلئے استعمال ہو رہے ہیں جس کے باعث بیشتر ممبران اسمبلی بغاوت پر اتر آئے ہیں اور وہ جائز حقوق اور فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ عمران خان باقی تینوں صوبوں میں خیبر پختونخوا میں اپنی بہترین حکومت کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے حالانکہ معاملات اس کے بالکل برعکس ہیں،اور صوبے کے وسائل کو اپنی جاگیر سمجھ کر تقسیم کیا جارہا ہے جس سے صوبے کو مالی ، انتظامی طور پر دیوالیہ کر دیا گیا ہے، سردار حسین بابک نے کہا کہ 70سالہ تاریخ میں ایسے حالات کبھی پیدا نہیں ہوئے جتنا گند موجودہ صوبائی حکومت نے پھیلا دیا ہے،انہوں نے وزیر اعلیٰ کی جانب سے دوبارہ اقتدار میں آنے کے دعوؤں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ساڑھے چار سال سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے پھر بھی انہیں دوبارہ اقتدار میں آنے کی خوش فہمی ہے،انہوں نے کہا کہ در حقیقت اشارہ ملنے کے بعد سینیٹ کے الیکشن سے فرار حاصل کر کے صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کی افواہیں زیر گردش ہیں،صوبائی حکومت کو معلوم ہے کہ ان کے تمام ممبران باغی ہیں جبکہ سینیٹ میں انہیں کامیابی نظر نہیں آ رہی لہٰذا صوبے کو دیوالیہ کرنے کے بعد ملک میں سیاسی افراتفری پھیلانے کیلئے اشارے کے منتظر ہیں ، انہوں نے کہا کہ صوبے کے وسائل اور ذرائع آمدن کو اپنے چہیتوں میں بانٹنے اور نجکاری کے بعد صوبے کو مستقبل میں شدید ترین معاشی و مالی بحران سے دوچار کر دیا جائے گا،سردار بابک نے کہا کہ حکومتی غیر سنجیدگی کے باعث بجلی کے منصوبے سیاحت کے مواقع ، صحت ، معدنیات، جنگلات اور تمام شعبے مستقبل میں آمدن کی بجائے خسارے کا سبب بنیں گے ،، صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ اے این پی کے دور حکومت میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے سیاسی وابستگی سے بالاتر صوبے کے تمام علاقوں میں برابری کی بنیاد پر ترقی کیلءئے اقدامات کئے ،نامساعد حالات کے باوجود ہر ہفتے حکومتی و اپوزیشن ممبران اسمبلی سے ملاقاتیں کرتے تھے اور متعلقہ ممبران کے علاقوں کے مسائل حل کرنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر احکامات جاری کرتے یہی وجہ تھی کہ پانچ سال تک اپوزیشن نے اجلاس بلانے کیلئے کبھی ریکوزیشن جمع نہیں کرائی ، انہوں نے کہا کہ تبدیلی سرکار کے وزیر اعلیٰ ملاقات تو دور کی بات ممبران اسمبلی کو ان کے علاقوں کیلئے جائز فنڈز دینے سے بھی کترا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں آئے روز ہونے والے ہنگامے اور احتجاج حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے۔