قصور واقعات انتظامیہ اور مجرموں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہیں ، عوامی نمائندے مستعفی ہو جائیں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے قصور واقعے میں انتظامیہ کی نا اہلی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معصوم زینب کے واقعے پر اپنی ناکامی کا اعتراف کر لے اور عوامی نمائندوں کو اس غفلت پر مستعفی ہو جانا چاہئے ، پنجاب حکومت کام ترین حکومت ہے جس میں عوام کے ساتھ ساتھ معصوم بچوں کی زندگیاں بھی محفوظ نہیں ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے قصور میں زینب کے والد سے ان کی بچی کے وحشیانہ قتل پر اظہار افسوس اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، مرکزی نائب صدر بشری گوہر، اے این پی رہنما عمر خان اور امیر بہادر خان ہوتی اور تبسم بی بی بھی ان کے ہمراہ تھے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ قصور میں تسلسل کے ساتھ یہ واقعات ہو رہے ہیں تاہم آج تک کسی کو سزا نہیں ملی جس کی وجہ سے ان واقعات کی روک تھام بھی نہیں ہوئی ، انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے دور حکومت میں تسلسل سے یہ واقعات ہو رہے ہیں لیکن آج تک وزیر اعلیٰ پنجاب نے توجہ نہیں دی ،حالانکہ قبل ازیں بچوں کے ساتھ زیادتیوں کے حوالے سے تین یا چار سو ویڈیوز برآمد ہوئیں تاہم وہ واقعات بھی حکومتی نااہلی کی دھول میں دب گئے ،انہوں نے کہا کہ بادی نظر میں دکھائی ایسا دے رہا ہے کہ انتظامیہ مجرموں کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور یہ تمام واقعات انتظامیہ کی چھتری کے نیچے ہو رہے ہیں ، انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ مذکورہ حلقے میں 5ایم این اے اور10ایم پی ایز ہیں لیکن بدقسمتی سے کسی نے بھی ان غمزدہ خاندان کی داد رسی کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی ، میاں افتخار حسین نے مردان کے علاقے گجر گڑھی میں ننھی عاصمہ کے ساتھ زیادتی اور قتل کی بھی مذمت کی اور ڈی آئی خان میں ہونے والے واقعے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ عدالت عظمی زینب کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا میں ہونے والے واقعات پر بھی سوموٹو ایکشن لے، انہوں نے کہا کہ ہم زینب کے والدین کے دکھ کو زیادہ سمجھ سے سکتے ہیں کیونکہ ہم ان تکالیف سے خود گزرے ہیں ، خیبر پختونخوا میں بھی حکومت ناکام ہو چکی ہے اور عوام بے یارو مددگار ہیں ، انہوں نے کہا کہ حکومتیں ملک میں صرف گٹھ جوڑ میں لگی ہیں اور کرسی گرانے و کرسی بچانے کی لڑائی جاری ہے جبکہ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ، انہوں نے کہا کہ سب کو اپنی ناکامی تسلیم کرنی چاہئے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ معاشرے میں تشدد میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے اور اس کی روک تھام کیلئے سب کو میدان میں نکلنا ہو گا جبکہ نوجوان نسل کو آگاہی مہم چلانی ہو گی تاکہ عوام میں شعور اجاگر کیا جا سکے ، انہوں نے کہا کہ ایسی حکومت کا کیا فائدہ کہ انسان بچوں کو اکیلا چھوڑ کر اللہ کے گھر حاضری بھی نہ دے سکے،پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومتوں نے اپنی نا اہلی کی وجہ سے تمام اداروں کو بھی تباہ کر دیا ہے ،لہٰذا ایسی قانون سازی کی ضرورت ہے کہ ان شرمناک واقعات کا سد باب ہو سکے ، انہوں نے زینب کے والدین کو ہر ممکن تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ ہم باچا خان کے پیروکار ہیں اور انسانیت کی خاطر آپ کے ساتھ انصاف کے حصول تک شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
جاریکردہ