اے این پی سندھ
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی سندھ نے برصغیر کی جنگ آزادی کے عظیم ہیر و فخر افغان رئیس الاحرار خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کی تیسویں اورقائد جمہوریت رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی بارہویں برسی کی تقریبا ت کا اغاز آج باچا خان مرکز میں قرآن خوانی کے ذریعے کردیا ہے،جس کے بعد ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا اور باچا خان امن مشاعرے کا انعقادکیا گیا جس میں ملک کے نامور شعراء نے اپنے کلام کے ذریعے پارٹی اکابرین کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی جدوجہد پر روشنی ڈالی اور پختون دھرتی پر امن کی اہمیت پر زور دیا ، عظیم اسلاف کی برسیوں حوالے سے مختلف تقاریب کا سلسلہ جاری رہے گا اور اگلے ماہ فروری میں عظیم الشان جلسہ عام کا انعقاد کیا جائے گا ، جس میں مرکزی صدر اسفند یار ولی خان شرکت فرمائیں گے
اعلامیہ کے مطابق تعزیتی ریفرنس سے صوبائی جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے اپنے خطاب میں عظیم پارٹی اکابرین کی جدوجہد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت باچا خان اور خان عبدالولی خان کی جدوجہد ہمارے لیے مشعل راہ ہے بد قسمتی سے ان کی بصیرت اور دانش مندی کا بروقت ادارک نہیں کیا گیا ورنہ ہمارے حالا ت آج ایسے نہیں ہوتے جن خدشات کی نشاندہی انہو ں نے آج سے برسوں پہلے کردیا تھا آج وہ سچ ثابت ہورہے ہیں حضرت باچا خان نے تعلیم کی اہمیت ، سماج کی پسماندہ رسومومات کی روک تھام ،تشدد کے بجائے امن و محبت اور بھائی چارے پر زور ، عدم تشدد کے پرچار کے لیے جدوجہد کی،اگر باچا خان کی تعلیمات کی اہمیت کو سمجھا جاتا تو آج خطے کے حالات یکسر مختلف ہوتے اور خاص طور پر پختون اقوام عالم کی انتہائی باوقار قوموں کی صف میں شامل ہوتی ان کی جدوجہد کسی مخصوص قومی اکائی کے لیے نہیں تھی بلکہ وہ دنیا میں بسنے والے ہر انسان کے احترام اور اس کے حقوق کے تحفظ کے لیے تھی انہوں نے مذید کہا کہ ملک کی بقاء صرف اور صرف جمہوری تسلسل میں پنہاں ہے مضبوط جمہوریت اور بااختیار پارلیمنٹ ہی ملکی بقاء کی ضامن ہے جمہوریت کے لیے خان عبدالولی خان کی جدوجہد ناقابل فراموش ہے 1973کے آئین کو متفقہ آئین بنانے میں ان کا کردار تاریخ کا انمٹ باب ہے ا س سے قبل عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی تھنک ٹینک کا اجلاس باچا خان مر کز میں صوبائی قائم مقام صدر حاجی اورنگزیب بونیری کی صدارت میں منعقد ہوا ،اجلاس میں نقیب اللہ محسود کے مبینہ پولیس مقابلے سمیت دیگر امور پر غور کیا گیا ، اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی سندھ ماورائے آئین و قانون اٹھائے گئے ہر اقدام کی مذمت کرتی ہے مبینہ پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کے حوالے سے پورے ملک اور پختون خطے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے عدالت عظمیٰ کی جانب سے واقعے کا نوٹس لینا احسن اقدام ہے سپریم کورٹ کی تحقیقات سے واقعے کے اصل حقائق منظر عام پر آسکیں گے،واقعے کی صاف شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور لواحقین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے،فرائض میں میں کوتاہی، لاپرواہی برتنے والوں اورمنصب اور اختیارات کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے نقیب اللہ محسود کے مبینہ پولیس مقابلے کو صرف انکشافات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے،عوامی نیشنل پار ٹی روز اول سے اس تمام واقعے پر انتہائی گہری نظر رکھی ہوئی ہے ،عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ شہر کی ایک انتہائی ذمہ دار سیاسی جماعت کی حیثیت سے ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کیا ہے ،جذباتی ماحول میں اٹھائے گئے اقدامات ہمیشہ قومی نقصان کا باعث بنے ہیں،نقیب اللہ محسود قتل کیس کے حوالے سے جدوجہد کرنے والے سوشل ایکٹیوسٹ، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ،الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا اور خاص طور پر عوامی نیشنل پارٹی کی مقامی وارڈ کی تنظیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،آئی جی سندھ نے اس حوالے سے اب تک ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں امید ہے جلد اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جاسکیں گے اور ذمہ دران کا تعین ہوسکے گا ،لواحقین کو انصاف دلوانے کے لیے عوامی نیشنل پارٹی سندھ ہر قسم کی اخلاقی ،سیاسی اور قانونی معاونت کرے گی ۔