خیبر پختونخوا کے عوام دو لاڈلوں کے درمیان کرسی کی جنگ میں پس رہے ہیں، ایمل ولی خان

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ در حقیقت پشاور جنگلہ بس بجلی منصوبوں کی اس رقم سے بنائی جا رہی ہے جو اے این پی نے اپنے دور میں مرکز سے حاصل کی تھی ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی غیر ضروری منصوبہ ہے اور اس کی پشاور کے عوام کو قطعی ضرورت نہیں تھی حکومت نے صرف اپنی کمیشن کیلئے یہ منصوبہ شروع کیا اور عوام کو مشکلات میں ڈال دیا جبکہ پورا شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ حیرت اس بات کی ہے کہ جب منصوبے کیلئے قرض کی آخری قسط 2020میں ملنی ہے تو یہ 6ماہ میں مکمل کیسے ہو گا ؟ ایمل ولی خان نے کہا کہ پختونوں کو تبدیلی کے نام پر ورغلایا گیا تاہم صوبے کے عوام تبدیلی کی حقیقت جان چکے ہیں اور آئندہ وہ ان کے دھوکے میں آئیں گے ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں کرپشن عروج پر ہے پہلے بلین سونامی ٹری کے نام پر کروڑوں روپیہ لوٹا گیا اور اب جنگلہ بس میں کمیشن کمایا جا رہا ہے، پختونخوا کے عوام کی بد قسمتی ہے کہ مرکز اور صوبے کے دو لاڈلوں نے اس صوبے کو نقصان پہنچایا ،پی ٹی آئی سوشل میڈیا کی جماعت ہے اور حکومت کے تمام منصوبے صرف سوشل میڈیا کی حد تک ہیں جبکہ حقیقت میں کچھ بھی نہیں ، انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت تایخ کی ناکام ترین حکومت ہے جو ساڑھے چار سال گزرنے کے باوجود کچھ بھی ڈیلیور نہ کر سکی ، فاٹا اصلاحات بل کی منظوری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بل کی منظوری خوش آئند اقدام ہے اور امید ہے فاٹا جلد صوبے میں ضم ہو جائے گا، انہوں نے مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ قبائلی عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق فاٹا کو جلد از جلد صوبے میں ضم کیا جائے،انہوں نے کہا کہ اے این پی کا اس حوالے سے مؤقف بہت واضح ہے اور مستقبل میں بھی قبائلی عوام کے حقوق کیلئے اے این پی ان کے شانہ بشانہ میدان میں کھڑی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور ہم سے اتحاد و اتفاق کا متقاضی ہے اور تمام پختون اپنے حقوق کے تحفظ کیلءئے اے این پی کے سرخ جھنڈے تلے متحد ہو جائیں۔