جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت کے مادے کا تدارک کرنے اور اس کی روک تھام کیلئے سب کو اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانا ہونگی اور خصوصا نوجوان نسل کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کیلئے میدان میں نکلنا ہو گا ، باچا خان نے عدم تشدد اور برداشت کا جو فلسفہ دیا وہی نوجوان نسل کی بقا کا فلسفہ ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان اور ولی خان کی برسی کی تیاریوں کے حوالے سے خٹک نامہ پی کے12کریمیہ ہاوًس حاجی افتخار کے حجرے میں منعقدہ تمام یونین کونسلوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ضلعی صدر ملک جمعہ خان سمیت دیگر مقامی رہنماوًں نے بھی خطاب کیا اور برسی کی تیاریوں کے حوالے سے مختلف تجاویز زیر غور آئیں ، میاں افتخار نے کہا کہ اے این پی واحد جماعت ہے جو پختونوں کی بقا اور ان کے حقوق کے لیے ہمیشہ سے لڑتی آئی ہے اور مستقبل میں بھی پختونوںکے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ جمہوریت کی بقاءکی جنگ لڑی اور کبھی کسی غیر جمہوری قوت کا ساتھ نہیں دیا ، انہوں نے کہا کہ خان عبدالولی خان جمہوریت کے حقیقی علمبردار تھے اور اگر ان کا نام جمہوریت سے نکال دیا جا ئے تو باقی کچھ باقی نہیں رہتا ، جمہوریت کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیںگے۔ملکی حالات کے تناظر میں اس وقت پاکستان کے لیے جمہوریت نہایت ضروری ہے۔ اے این پی جمہوری پارٹی ہے اور کسی غیر جمہوری اقدام کے نتیجے میں جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اے این پی اس عمل کی بھرپورمزاحمت کرے گی۔میاں افتخار حسین نے پارٹی عہدیداروں اور تمام کارکنوں پر زور دیا کہ وہ 28جنوری کو ہونے والی برسی تقریب میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں ،انہوں نے حال ہی میں کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات میں اضافے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ واقعات معاشرے میں بے حسی کے عکاس ہیں ، تاہم مرکزی وصوبائی حکومت اس حوالے سے کوئی بھی اقدام کرنے میں ناکام رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں بچوں سمیت عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں مردان میں بربریت کا نشانہ بننے والی آسما کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد بھی تاحال ھکومتی مشینری حرکت میں نہیں آئی ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبے میں جنگل کا قانون رائج ہے اور حکومت نام کی کوئی چیز نہیں جس کی وجہ سے عوام عدم تحفظ کا شکا رہیں، انہوں نے کہا کہ عوام تبدیلی کے نام پر دھوکہ دہی کی حقیقت جان چکے ہیں اور اب وہ اے این پی کو ہی اپنے حقوق کا ضامن تصور کرتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ عوام کے بہتر مستقبل کیلئے باچا خانی سے بہتر کوئی راستہ نہیں اور آئندہ الیکشن میں اے این پی کامیاب ہو کر صوبے میں حقیقی تبدیلی لائے گی۔انہوں نے کہا کہ نوشہرہ سے برسی تقریب میں شرکت ایک ریکارڈ ہو گی اور عوام بھرپور طریقے سے شرکت کر کے ثابت کریں کہ ان کی بقاءباچا خان بابا کی سوچ و فکر اور افکار پر عمل پیرا ہونے میں ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم ہر قیمت پر امن لائیں گے البتہ صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت دہشتگردوں کے ساتھ ملی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے عارضی امن ہے اور یہی چیز اس خطے کے لیے نہایت خطرناک ہے،انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نیشنل ایکشن پلان کے باوجود پنجاب میں موجود 72کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی نہیں کر رہی جو کہ اس بات کاثبوت ہے کہ انہیں عوام کی نہیں صرف اپنی ہی فکر ہے۔