بچیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات پر حکمرانوں کا اقتدار میں رہنے کا جواز نہیں بنتا، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے پبی خوشمقام میں معصوم بچی کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز واقعے پر غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر مستعفی ہو جائے ،کپتان قصور واقعے پر پنجاب حکومت سے استعفی مانگ رہے ہیں لیکن بد قسمتی سے ان کی اپنی صوبائی حکومت نے غریب عوام کو وحشی درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے ،پبی کے علاقے خوشمقام میں زیادتی کا نشانہ بننے والی بچی کے غمزدہ والدین سے اظہار افسوس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے این پی متاثرہ خاندان کے ساتھ ہے اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،انہوں نے کہا کہ علاقے کے عوام داد کے مستحق ہیں جنہوں نے ملزم کو بروقت پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا لہٰذ اب شفاف تحقیقات ہونی چاہئے اور اگر ملزم پر جرم ثابت ہو جائے تو اسے پھانسی پر لٹکایا جانا چاہئے ، انہوں نے اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مثالی پولیس متاثرہ خاندان کے ساتھ ہی زیادتی کر رہی ہے جس سے بادی النظر میں تاثر ملتا ہے کہ یہ انسانیت سوز واقعات پولیس کی چھتری تلے ہو رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور دیگر حکومتی شخصیات نے یہاں آنے کی زحمت گوارا نہیں کی جس پر انہیں شرم سے ڈوب مرنا چاہئے ، پی ٹی آئی صرف حکومت حکومت کھیلنے میں مصروف ہے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ سے اسے کوئی سروکار نہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم نے قصور کا دورہ کیا اور زینب کے واقعے پر حکومتی ناکامی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ پنجاب حکومت استعفیٰ دے ، اور اب اپنے ہی صوبے میں حکومتی بے حسی اور غیر سنجیدگی پر بھی اس حکومت سے استعفی کا مطالبہ کرتے ہیں ،انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ڈی آئی خان اور مردان کے بعد اب نوشہرہ کا واقعہ حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے اور ایسے حکمرانوں کاکسی صورت اقتدار میں رہنے کا جواز نہیں بنتا ، میاں افتخار حسین نے متاثرہ کاندان کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اے این پی ان کی داد رسی کیلئے میدان میں کھڑی ہے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ننھی مدیحہ کو انصاف ملنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔