اسمبلیوں کے خاتمے کی خواہش رکھنے والے جمہوریت کے دشمن ہیں ، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ جمہوریت کے خلاف سازشیں اور قبل از وقت اسمبلیاں توڑنے کی خواہش رکھنے والے کل کو خود پچھتائیں گے ، صرف چند ماہ باقی ہیں جو کسی سے ہضم نہیں ہو رہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں ’’ہفتہ باچا خان‘‘ کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ باچا خان اور ولی خان کی برسی28جنوری کو منائی جا رہی ہے اور ’’ہفتہ باچا خان ‘‘ منانا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ، انہوں نے کہا کہ باچا خان نے امن کی خاطر قربانی دی اور ہمیشہ تشدد کے خاتمے، صوبائی خود مختاری اور سماجی انصاف کیلئے جدوجہد کرتے رہے، انہوں نے کہا کہ آج بد قسمتی سے ملک میں جمہوریت خطرے میں ہے اور اے این پی کی حتی الوسع کوشش ہے کہ ملک میں جمہوریت ڈی ریل نہ ہو ، انہوں نے کہا کہ ناعاقبت اندیش الیکشن سے قبل اسمبلیاں توڑنے کی خواہش رکھتے ہیں تاہم وہ نہیں جانتے کہ ایسی صورت میں خود انہیں بھی پچھتانا پڑے گا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ نوجوان نسل میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور پاکستان کا مقدمہ جمہوریت کے بغیر نہیں لڑا جا سکتا ،لہٰذا تمام سیاسی رہنماؤں کو چاہئے کہ وہ صورتحال کی نزاکت کا ادراک کریں اور قوم جسے بھی مینڈیٹ دے اس کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا جانا چاہئے، کمسن بچیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مردان میں آسماء کے ساتھ درندگی کرنے والے مجرم کو گرفتار نہ کیا گیا تو ہم میدان میں ہونگے ، گرفتاری میں لیت و لعل شاید مجرم کو راہ فرار اختیار کرانے کیلئے لیا جا رہا ہے، ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ معصوم بچیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں اور ان میں سے بیشتر واقعات رپورٹ بھی نہیں ہو رہے ، انہوں نے کہا کہ یہ مردان میں پانچواں واقعہ ہے لیکن حکومتی غفلت چھپانے کیلئے ان واقعات کو چھپایا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ قانون سویا ہوا ہے اتنے دن گزرنے کے بعد بھی آسماء کے مجرم گرفتار نہیں ہو سکے جبکہ ایف آئی آر بھی نا مکمل ہے جبکہ میڈیکل رپورٹ سامنے آچکی ہے ، انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ معاشرے میں شرم ، حیا اور غیرت ختم ہوتی جا رہی ہے اور ضمیر مردہ ہو چکے ہیں، پی ٹی آئی والے قصور میں زینب کے واقعے پر سیاست چمکاتے رہے لیکن مردان میں کسی نے دلچسپی نہیں لی ، حکومت ناکام ہو چکی ہے اور اب ڈی آئی خان ، خوشمقام اور مردان کے واقعات کے بعد وزیر اعلیٰ کو فی الفور مستعفی ہو جا نا چاہئے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ قوم کی بچیاں ہماری بچیاں ہیں اور ہم ان تمام بچیوں کے تحفط کیلئے خود میدان میں نکلے ہیں ، انہوں نے کہا کہ تمام عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے جسے حکمرانوں نے کبھی سنجیدہ نہیں لیا ، انہوں نے کہا کہ پولیس مجرم کو جلد از جلد گرفتار کرے اور عدالت سوموٹو ایکشن لے کر اس معاملے کی تحقیقات کرائے ، انہوں نے کہا کہ جس پر جرم ثابت ہو جائے اسے پھانسی پر لٹکایا جائے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی پولیس اہلکار ملزم کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے تو اس کی سزا بھی پھانسی سے کم نہیں ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ شعوری طور پر ایک تحریک کی شکل میں اس ماحول کو بدلنے کیلئے میدان میں نکلیں۔