آسما کے قاتلوں کو فرار کرانے کیلئے گرفتاری میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے متنبہ کیا ہے کہ مردان میں آسماء کے ساتھ درندگی کرنے والے مجرم کو گرفتار نہ کیا گیا تو ہم میدان میں ہونگے ، گرفتاری میں لیت و لعل شاید مجرم کو راہ فرار اختیار کرانے کیلئے لیا جا رہا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوجر گڑھی مردان میں کمسن آسماء کے والدین سے اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، ضلع ناظم مردان حمایت اللہ مایار بھی ان کے ہمراہ تھے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ معصوم بچیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں اور ان میں سے بیشتر واقعات رپورٹ بھی نہیں ہو رہے ، انہوں نے کہا کہ یہ مردان میں پانچواں واقعہ ہے لیکن حکومتی غفلت چھپانے کیلئے ان واقعات کو چھپایا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ قانون سویا ہوا ہے اتنے دن گزرنے کے بعد بھی آسماء کے مجرم گرفتار نہیں ہو سکے جبکہ ایف آئی آر بھی نا مکمل ہے جبکہ میڈیکل رپورٹ سامنے آچکی ہے ، انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ معاشرے میں شرم ، ھیا اور غیرت ختم ہوتی جا رہی ہے اور ضمیر مردہ ہو چکے ہیں، پی ٹی آئی والے قصور میں زینب کے واقعے پر سیاست چمکاتے رہے لیکن مردان میں کسی نے دلچسپی نہیں لی ، حکومت ناکام ہو چکی ہے اور اب ڈؤ آئی خان ، خوشمقام اور مردان کے واقعات کے بعد وزیر اعلیٰ کو فی الفور مستعفی ہو جا نا چاہئے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ قوم کی بچیاں ہماری بچیاں ہیں اور ہم ان تمام بچیوں کے تحفط کیلئے خود میدان میں نکلے ہیں ، انہوں نے کہا کہ تمام عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے جسے حکمرانوں نے کبھی سنجیدہ نہیں لیا ، انہوں نے کہا کہ پولیس مجرم کو جلد از جلد گرفتار کرے اور عدالت سوموٹو ایکشن لے کر اس معاملے کی تحقیقات کرائے ، انہوں نے کہا کہ جس پر جرم ثابت ہو جائے اسے پھانسی پر لٹکایا جائے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی پولیس اہلکار ملزم کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے تو اس کی سزا بھی پھانسی سے کم نہیں ہونی چاہئے۔