ٹیکسٹ بک بورڈ کے خلاف حکومتی اقدام ،اے این پی نے اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کر ادیا۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے ٹیکسٹ بک بورڈ سے 6ارب روپے اور تعلیمی بورڈز سے کروڑوں روپے ہتھیانے کے خلاف صوبائی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کر دیا ہے ، نوٹس میں سپیکر صوبائی اسمبلی کی توجہ اس جانب دلائی گئی ہے کہ ٹیکسٹ بک بورڈ صوبے کا بااعتماد اور بڑا ادارہ ہے اور کے جی تا ایف اے کتابوں کی بروقت اشاعت اسی ادارے کی مرہون منت ہے، لیکن حکومت صوبے کے ایک بڑے ادارے سے 6ارب روپے کی بڑی رقم بٹورنا چاہتی ہے تاکہ اسے بی آر ٹی اور اپنے من پسند حلقوں میں خرچ کیا جا سکے ،پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے توجہ دلاؤ نوٹس میں کہا ہے کہ انتہائی دلچسپ بات یہ ہے کہ تعلیمی ایمرجنسی لگانے والے صوبے کے اشاعتی ادارے اور تعلیمی بورڈز سے اربوں روپے غیر ضروری مد میں ہتھیانا چاہتے ہیں تاکہ اس رقم کو بی آر ٹی جیسے غیر ضروری منصوبے اور اپنے حلقوں میں گلی کوچوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ آئندہ الیکشن جیتنے کیلئے استعمال کیا جا سکے ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں نئی یونیورسٹیاں، نئے کالجز ، ٹیکنیکل کالجز کی تعمیر اور غریب بچوں اور بچیوں کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے کی بجائے تعلیمی اداروں سے رقوم صوبائی خزانے میں غیر قانونی طریقے سے جمع کرا کے اسے مستقبل میں الیکشن جیتنے کیلئے استعمال کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹ بک بورڈ کی مذکورہ رقم کتابوں کی اشاعت ، پرنٹرز کی سیکورٹی ،ٹیکسٹ بک بورڈ کے ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن ، ملازمین کی ضروریات اور مستقبل میں اس حوالے سے ادارے کی منصوبہ بندی اور ملازمین کی رہائشی کالونی کیلئے عرصہ دراز سے مختلف بنکوں میں پڑی ہے ،انہوں نے کہا کہ حکومت وزیر خزانہ کے ذریعے ٹیکسٹ بک بورڈ کو رقم وزارت خزانہ میں جمع کرانے اور انہیں ان کی پراپرٹیز بیچنے پر مجبور کر رہی ہے جو سراسر زیادتی اور غیر قانونی ہے،سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اپنے دور میں تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا تاہم ٹیکسٹ بک بورڈ کے خلاف اٹھایا جانے والا اقدام حکومتی دعوؤں کی نفی ہے جبکہ بی آر ٹی کی پشاور کے شہریوں کو قطعی طور ضرورت نہیں تھی ، انہوں نے کہا کہ حکومت ناجائز طور پر اشاعتی ادارے سے رقم چھیننے کی مجاز نہیں، یہ اس ادارے کا کمال مہارت ہے کہ انہوں نے اپنی ضروریات پوری کرنے کی غرض سے پراپرٹیز بنائیں اور رقم پس پشت کئے رکھی، انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ٹیکسٹ بک بورڈ و دیگر اداروں کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے فعل سے باز رہے ، انہوں نے احتسابی اداروں سے بھی درخواست کی کہ معاملے کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے نوٹس لیں اور معاملے کی اعلی سطح پر تحقیقات کریں اور جو بھی اس میں ملوث ہو اس کے خلاف کاروائی کی جائے۔