ٹیکسٹ بورڈ کی دولت حکمرانوں کی آنکھ میں کانٹا بن کر چبھ رہی ہے،سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے حکومت کی جانب سے ٹیکسٹ بک بورڈ کی دولت پر ساڑھے6ارب روپے کا ڈاکہ ڈالنے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکسٹ بک بورڈ صوبے کا بااعتماد اور بڑا ادارہ ہے اور کے جی تا ایف اے کتابوں کی بروقت اشاعت اسی ادارے کی مرہون منت ہے،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبے کے ایک بڑے ادارے سے اتنی بڑی رقم وزیراعلیٰ اور ان کی کچن کیبنٹ پشاور کی جنگلہ بس اور اپنے حلقوں میں گلی کوچوں کی تعمیر کیلئے بٹور رہے ہیں تو پھر تعلیمی ایمرجنسی کہاں گئی؟ انہوں نے کہا کہ مذکورہ رقم کتابوں کی اشاعت ، ٹیکسٹ بک بورڈ کی تنخواہیں اور پنشن اور اس سے متعلقہ تمام ضروریات، ملازمین اور ملازمین کی رہائشی کالونی اور مستقبل کیلئے ادارے کی منصوبہ بندی پوری کرنے کیلئے عرصہ دراز سے مختلف بنکوں میں پڑی ہے ،لیکن حکمرانوں کی آنکھ میں کانٹا بن کر چبھ رہی ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت وزیر خزانہ کے ذریعے ٹیکسٹ بک بورڈ کو رقم وزارت خزانہ میں جمع کرانے اور انہیں ان کی پراپرٹیز بیچنے پر مجبور کر رہی ہے۔ جو سراسر زیادتی اور غیر قانونی ہے، سردار حسین بابک نے کہا کہ ساڑھے چار سال بعد تعلیمی ایمرجنسی کے دعوؤں کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے،جبکہ جنگلہ بس کی پشاور کے شہریوں کو قطعی طور ضرورت نہیں تھی انہوں نے کہا کہ جنگلہ بس اور آئندہ الیکشن کیلئے ٹیکسٹ بک بورڈ کی رقم سیاسی رشوت کیلئے استعمال کرنے کا پروگرام بنایا جا رہا ہے،انہوں نے حکومت سے استفسار کیا کہ اپنے دور اقتدار میں اس نے کتنی رقم ٹیکسٹ بک بورڈ کو دی ؟ سردار بابک نے کہا کہ حکومت کو ناجائز طور پر اشاعتی ادارے سے رقم چھیننے کی مجاز نہیں، یہ اس ادارے کا کمال مہارت ہے کہ انہوں نے اپنی ضروریات پوری کرنے کی غرض سے پراپرٹیز بنائیں اور رقم پس پشت کئے رکھی،انہوں نے کہا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور ٹیکسٹ بک بورڈ و دیگر اداروں کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے فعل سے باز رہے ۔