وزیر اعلی نے خود کو قربانی سے بچانے کیلئے پشاور میٹرو کا سہارا لیا، امیر حیدر خان ہوتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خود کو بنجاب کی سیاست پر قربان ہونے سے بچانا چاہتے تھے اسی لئے پشاور میٹرو پرویز خٹک نے خود کو قربانی سے بچانے کیلئے شروع کی ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوابی میں باچائی سکندری میں ایک بڑے شمولیتی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا،امیر حیدر خان ہوتی نے خیبر پختونخوا پولیس پر کی جانے والی تنقید کی بھی مذمت کی اور کہا کہ خیبرپختونخوا کی پولیس کو برا بھلا کہنے والے راؤ انوار سے حساب کیوں نہیں مانگتے،انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے صرف سرکاری اہلکاروں کی تذلیل کی اور ان کی بہتری اور خدمت کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ، انہوں نے تمام پولیس شہداء اور ان کے لواحقین کے حوصلوں کو بھی سلام پیش کیا اور کہا کہ دھرتی پر امن کے قیام کیلئے جانیں قربان کرنے والے انسانیت کے محسن ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہمارے دور حکومت میں دہشت گردی عروج پر تھی لہٰذا مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے ہم نے پولیس کی خصوصی تربیت پر توجہ دی اور اہلکاروں کی تعداد40ہزار سے بڑھا کرتقریباً 80ہزار کر دی گئی،اور ساتھ ہی ان کی تنخواہوں میں بھی مشترکہ طور پر دوگنا اضافہ کر دیا گیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور میں پولیس جوانوں کی تربیت فوجی انداز میں کرائی جبکہ شہداء پیکج 3لاکھ سے بڑھا کر30لاکھ کر دیا گیا، دوران ملازمت شہید ہونے والے اہلکاروں کے بچوں کو نوکریاں دینے کے ساتھ ساتھ ان کی تنخواہ بھی ان کے لواحقین کو ملتی رہی ، انہوں نے کہا کہ پولیس کو جدید اسلحہ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ تھانوں کو مضبوط بنایا گیا تاکہ وہ دہشتگردوں کے مذموم حملوں سے محفوظ رہ سکیں ،انہوں نے کہا کہصوبے کا خزانہ تک لوٹ لیا گیا ہے جبکہ کپتان نے کشکول توڑنے کا جو وعدہ کیا تھا اسے بھی فراموش کر کے اتنا کشکول گھمایااور قرضہ لیا جو تاریخ میں کسی صوبائی حکومت نے نہیں لیا ، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پختونوں کی کئی آنے والی نسلیں مقروض ہو چکی ہیں،ترقیاتی بجٹ میں 80ارب روپے کی مرحلہ وار کمی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے وفاق سے صوبے کے حقوق حاصل نہ کئے ، بجلی منافع کی رقم تاحال نہیں مل سکی اور این ایف سی ایوارڈ بھی نہیں ہو سکا ،انہوں نے کہا کہ سیاست چمکانے کی غرض سے لا تعداد منصوبوں کا اعلان کیا گیا جن میں سے لا تعداد تاحال شروع ہی نہ ہو سکے ، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ ایکسپریس وے صوبے کی تاریخ کا مہنگا ترین منصوبہ ہو گا جو مکمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ،تاہم اس کی تعمیر سے ٹھیکیدار 25سال تک عوام سے ٹیکس وصول کرے گا ،انہوں نے کہا کہ چار سال تک پنجاب کی میٹرو کو جنگلہ بس کہنے والوں نے پشاور میں میٹرو کیوں شروع کی ؟ انہوں نے واضح کیا کہ پرویز خٹک استعفی سے بچنے کیلئے میٹرو کا سہارا لے رہے ہیں،اور پشاور کو غیر ضروری طور پر کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے ،انہوں نے تجویز پیش کی کہ اگر حکومت چاہتی تو ہمارے دور کا رنگ روڈ کا منصوبہ مکمل کرتی اور چمکنی سے بڈھ بیر بائی پاس روڈ تعمیر کرتی تو ٹریفک کا مسئلہ جنوبی اضلاع تک حل کیا جا سکتا تھا، تعلیم کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حقیقی تعلیمی ایمرجنسی اے این پی کے دور میں تھی، جب 5سال میں ہم نے10یونیوارسٹیاں بنائیں ، طلباء میں وظائف تقسیم کئے لیپ ٹاپ سکیم شروع کی جبکہ موجودہ دور کی تعلیمی ایمرجنسی میں صرف لوگو اور رنگ تبدیل کر دیئے گئے جبکہ بورڈ کے نتائج میں کوئی سرکاری سکول پوزیشن نہ لے سکا،انہوں نے اعلان کیا کہ اے این پی دوبارہ اقتدار میں آ کر ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی بنائے گی تاکہ طلباء کو ان کی دہلیز پر اعلیٰ تعلیم میسر آ سکے،انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے صوبے کے مفادات کو پنجاب کی سیاست پر قربان کر دیا گیا،انہوں نے کہا کہ سندھ میں چین کے تعاون سے تھرکول کے منصوبے پر کام جاری ہے اور پنجاب میں بجلی کے بیشتر منصوبے زیر تکمیل ہیں جبکہ ہمارے حکمران صرف چوہوں اور گدھوں کے کاروبار میں مصروف رہے اور اس میں بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا،امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ پی ٹی آئی پر جاگیرداروں اور لوٹوں کا قبضہ ہے اور نظریاتی کارکنوں کا فقدان ہے جبکہ ٹکٹ بھی دولت کے بل بوتے پر تقسیم کئے جا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے میرٹ پر ٹکٹ نظریاتی کارکنوں میں تقسیم کئے اور اقتدار میں آ کر انہی نظریاتی پختونوں کے تعاون سے جعلی جنون کا مقابلہ کرے گی ، انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ عوام میں بیداری پیدا کرنے کیلئے میدان میں نکلیں ۔