ملک میں جنگل کا قانون ہے،راؤ انوار سرکاری چھتری تلے روپوش ہیں،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ عوام پی ٹی آئی کی ناکام حکومت اور ان کی جھوٹے وعدوں سے تنگ آچکے ہیں اور آنے والے الیکشن میں اے این پی کو کامیاب کر کے گزشتہ الیکشن میں ہونے والے نقصان کی تلافی چاہتے ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے12پبی کندی تازہ دین میں بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر میر بشر کی قیادت میں درجنوں افراد نے پی ٹی آئی سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت اختیار کر لی ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو احساس ہونے لگا ہے کہ پی ٹی آئی کو ووٹ دے کر انہوں نے کتنی بڑی غلطی کی ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی واحد جماعت ہے جو پختونوں کی بقا اور ان کے حقوق کے لیے ہمیشہ جنگ لڑتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے صوبائی حکومت کی تبدیلی دیکھ لی وہ اب باچاخانی چاہتے ہیں جو کہ حقیقی تبدیلی ہے جس میں برابری، انصاف اور عوام کو ان کے حقوق دینا ہے، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے جھوٹے وعدوں سے عوام تنگ آچکے ہیں، ملکی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ملکی حالات کے تناظر میں اس وقت پاکستان کے لیے جمہوریت نہایت ضروری ہے۔ اے این پی جمہوری پارٹی ہے اور کسی غیر جمہوری اقدام کے نتیجے میں جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اے این پی اس عمل کی بھرپورمزاحمت کرے گی۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ نقیب اللہ شہید سمیت دیگر پختونوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جنگل کا قانون ہے ،عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنے والے خود قاتل بن چکے ہیں ، اور نقیب اللہ کی شہادت سندھ کی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے،انہوں نے کہا کہ ظلم کی جب انتہا ہوتی ہے تو تبدیلی آتی ہے اسی طرح نقیب اللہ کا خون بھی رنگ لایا اور سوشل میڈیا نے قوم کے سامنے حقائق پیش کر کے نقیب اللہ کی بے گناہی ثابت کی ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ نقیب اللہ کی شہادت کے پیچھے صرف راؤ انوار نہیں بلکہ پورا گینگ ملوث ہے اور بادی النظر میں اس گینگ کو صوبائی حکومت کی اشیرباد حاصل ہے ،انہوں نے کہا کہ ملزموں کو فوری طور پر گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے،کمسن بچیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاحال ڈی آئی خان ، مردان ، کوہاٹ اور نوشہرہ واقعات کے ملزمان گرفتار نہیں ہوئے لیکن صوبائی حکومت اس حوالے سے ٹس سے مس نہیں ہو رہی ، انہوں نے کہا کہ پارٹی قائد اسفندیار ولی خان نے اسماء کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے ایک ہفتہ کی ڈیڈ لائن دی ہے اور اگر اصل مجرم گرفتار نہ ہوئے تو اے این پی مشاورت کے بعد اپنے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔