سولہ سو کلومیٹر موٹرویز اور ہائی ویز بنانے کا دعویٰ کرنے والی مرکزی حکومت نے خیبر پختونخوا اور فاٹا میں کتنے کلومیٹر روڈز بنائے؟ 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک کہا ہے کہ مرکزی حکومت پختونخوا کے عوام کو وضاحت کریں کہ ملک میں 1600کلومیٹر موٹرویز اور ہائی ویز کا دعویٰ کرنے والی مرکزی حکومت نے ہمارے صوبے اور فاٹا میں کتنے کلومیٹر روڈز بنائے۔ 10ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والی مرکزی حکومت نے ہمارے صوبے میں ملکی وسائل سے کتنی میگاواٹ بجلی پیدا کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور نیٹو سپلائی کی وجہ سے ہمارے صوبے کے روڈز تباہ ہوگئے ہیں لیکن مجال ہے کہ مرکزی حکومت کو ہمارے صوبے کی پسماندگی اور ضرورت نظرآئی ہو۔ ہمارے صوبے اور فاٹا میں پانی سے ارزان اور آسان بجلی پیدا کرنے کے بے شمار مواقع موجود ہونے کے باوجود ملکی وسائل سے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے پر لگے ہوئے ہیں اور صرف اسی وجہ سے پختونخوا کو نظر انداز کیا جا رہا ہے کہ یہاں سرمایہ کاری بڑھے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے اور فاٹا میں سستی بجلی پیدا ہونے کے باوجود یہاں کے صارفین کو مہنگی ترین نرخوں پر بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ ہمارے ٹرانسمیشن لائن بوسیدہ ہو چکے ہیں اور کم وولٹیج اور لوڈشیڈنگ کا نہ ختم ہونے والے سلسلے کے باوجود مرکزی حکومت کی تمام تر توجہ اور ترجیح پنجاب پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی وسائل کے 1600کلومیٹر نئے روڈز میں پختونخوا اور فاٹا کے عوام کا کوئی حصہ نہیں بنتا؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے کو بجلی کی آمدن بروقت ملتی ہے اور نہ ہی ہمارے صوبے کے پیدا کردہ بجلی کے نرخ بڑھائے جا رہے ہیں جو کہ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے۔ اے این پی پختونوں کے حقوق کی مہذب اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کا روز اول سے مطالبہ رہا ہے کہ بجلی کا اختیار صوبے کے حوالے کیا جائے تاکہ صوبے کے عوام اپنی پیدا وار ی صلاحیت کا فائدہ اٹھا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنا آئینی اور جائز حقوق نہ ملنے کی وجہ سے خام مال اور افرادی قوت مجبوراً پنجاب منتقل کرنا پڑ رہا ہے۔ ہمارے وسائل اور ان کے آمدن کو صوبے کے عوام کو میسر ہوں تو ہمارا صوبہ ملک کا مالدار ترین صوبہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے تمام تر منصوبے اور وسائل پنجاب پر نچاور کرنے سے احساس محرومی میں اضافہ ہوگا جو کہ ملکی سلامتی کے لیے سودمند نہیں ہے۔ ملکی وسائل کا جائز اور مناسب تقسیم ملکی ترقی اور مضبوطی کا ضامن ہے لیکن بدقسمتی سے مرکزی حکومت اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی ہیں جو کہ ملکی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔