مادری زبانوں کو ترجیحی بنیادوں پر اہمیت دینے کیلئے تحریک کی ضرورت ہے،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ مادری زبان تہذیب و تمدن اورکلچر و ثقافت کا خزانہ ہے۔ اور مادری زبان کی بدولت ہی انسان کا اپنی ثقافت اور تہذیب و تمدن سے اٹوٹ رشتہ قائم ہوتا ہے۔مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ مادری زبانوں سے متعلق ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ دُنیا بھر کے تمام قدیم اور جدید دور کے ماہرین تعلیم ، دانشور ، فلاسفر اس بات پر متفق ہیں کہ معصوم بچوں کو ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینا ضروری ہے۔ کیونکہ دُنیا بھر میں ترقی یافتہ ملکوں کی ترقی اور سائنسی استعدادکا راز اسی حقیقت میں مضمر ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ 21 فروری کو مادری زبانوں کے دن کے طور پر منانا ایک اچھی روایت ہے تاہم اب اس سے آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے اور اسے ایک تحریک کی شکل دینا ضروری ہو چکا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جہاں تک پشتو زبان کا تعلق ہے دُنیا بھر میں رہنے والے لاکھوں پختونوں اور پاکستان میں بولی جانے والی دوسری بڑی زبان ہے۔ جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی درجنوں نشریاتی اداروں سے اس زبان میں پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ اُنہوں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں ہر دور حکومت میں اس ہزاروں سال پرانی زبان سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا۔ البتہ اسی کی دہائی میں اُس وقت کی صوبائی حکومت نے پشتو کو پرائمری درجوں میں ذریعہ تعلیم قرار دیااور اُن علاقوں میں جہاں پشتو مادری زبان تھی ابتدائی جماعتوں کیلئے پشتو میں نصاب تیار کیا لیکن ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے حامل سکول منتظمین نے اس منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ اُنہوں نے تجویز پیش کی کہ مادری زبانوں کی ترویج کیلئے ایک تحریک بنائی جائے اور اقوام متحدہ کے ذیلی امدادی ادارے مثلاً یونیسکو ، یونیسف وغیرہ متعلقہ حکومتوں کو مجبور کریں کہ مادری زبانوں کو ترجیحی بنیادوں پر اہمیت دی جائے۔ اُنہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ اس تحریک کی سرگرمیاں تعلیمی اداروں تک پھیلائی جائیں اور ٹی وی و اخبارات کے اشتہارات میں مادری زبانوں کا مناسب کوٹہ دیا جائے۔ 
انہوں نے کہا کہ اگر بنگالیوں کو ان کے حقوق دیئے جاتے تو پاکستان ٹوٹنے سے بچ جاتاکیونکہ بنگالیوں کی تحریک بنیادی طور پر بنگالی زبان کے ساتھ کی گئی زیادتی کا نتیجہ تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحے کے باوجود ہمارے حکمرانوں نے اپنے رویئے تبدیل نہیں کئے اور آج بھی پشتواور دیگر زبانوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں پشتو اور دیگر زبانوں کو ان کے جائز حقوق دلوائے مگر موجودہ حکمرانوں نے ایک سازش کے تحت ہمارے اقدامات کو سبوتاژ کیا اور پشتون دشمن رویہ اپنایا ، انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قوم مادری زبان کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی اور ہم اس حق کیلئے اپنی جدو جہد جاری رکھیں گے ،۔