قلندر مومند نے کئی طرح کی اذیتوں کے باوجود کسی بھی طاقت کے سامنے اپنا سر نہیں جھکایا، اسفندیار ولی خان

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ قلندر مومند پشتو زبان کے نامور شاعر، ادیب، صحافی، دانشور، نقاد اور محقق تھے اور ان کی تحریریں قوم کیلئےء مشعل راہ ہیں،قلندر مومند کی15ویں برسی کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں اسفندیار ولی خان نے کہ قلندرمومند ایک پہلودار شخصیت کے مالک تھے ، وہ بیک وقت ایک استاد شاعر،افسانہ نگار،صحافی،کالم نگار، محقق، ماہرلسانیات اور نقاد تھے انہیں اردو،فارسی،ہندی،عربی اور انگریزی زبان پر مکمل عبور حاصل تھا،گوکہ ان کے فن اور شخصیت پر بہت کچھ لکھا گیاہے تاہم اب بھی ان کی زندگی اور فن کے بیشتر گوشے ایسے ہیں جن سے پختونوں اور دیگر زبانوں کے پڑھنے والوں کو روشناس کرانے کی بہت ضرورت محسوس ہوتی ہے،انہوں نے کہا کہ قلندر مومند نظریاتی طور پر خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کی قیادت میں چلنے والی پختون قوم پرست تحریک’’خدائی خدمت گار‘‘ سے وابستہ تھے مگر قوم پرستی کے ساتھ ساتھ وہ سوشل ازم اور کیمونزم کے فلسفہ اور نظریات کے بھی بہت بڑے مبلغ اور شارح رہے،مزاج کے لحاظ سے ایک سادہ اور درویش قسم کے انسان تھے۔اسفندیار ولی خان نے انہیں ان کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قلندر مومند اپنے ترقی پسند نظرئے اور وطن پرستی کی پاداش میں کئی سال تک پابند سلاسل رہے اور طرح کی ذہنی اور جسمانی اذیتوں سے گزرے مگر کسی بھی طاقت کے سامنے اپنا سر نہیں جھکایا۔