صوبے میں پی ٹی آئی کاحکومت ہونے کے باجود عوام کا اے این پی میں شامل ہو نا ان کے اخلاص کا منہ بولتا ثبوت ہے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا صوبے میں حکومت ہونے کے باجود عوام کا اے این پی میں شامل ہو نا ان کا اپنے علاقے اور پختونوں کے ساتھ محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے، چینی سفیر نے امن کے قیام کیلئے عوامی نیشنل پارٹی کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا، صوبائی حکومت اپنی کمیشن اور کرپشن کے لیے آر بی ٹی بنا رہی ہیں، جس کا چار دفعہ نقشہ تبدیل کرنا پڑا، کہیں ایسا نہ ہو کہ دوران روپوشی راو انوار کومارا جائے لہٰذا اس کی گرفتاری میں تاخیر نہ کی جائے ،سینیٹ الیکشن میںپیسوں پر لوگوں کے ایمانوں اور ضمیروں کا سودہ کرنے والوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں،عمران خان اے این پی پر دہشت گردی کا الزام لگا رہے ہیں تو کیاآرمی پبلک سکول اور باچا خان یونیورسٹی کا حملہ پی ٹی آئی حکومت نے کیا ہے؟ نواز شریف تےن دفعہ وزیر اعظم منتخب ہوئے لیکن پارلیمنٹ کو مضبوط نہیں کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 12 یونین کونسل اکبرپورہ میں شمولیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔میاں افتخار حسین نے شمولیت اختیار کرنے والوں اور پارٹی میں لوگوں کو شامل کرنے والوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ان کوششوں میں اکبرپورہ کے پارٹی کارکنان نے کلیدی کردار آدا کیا۔ میں ان لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور ان سے اسی طرح پارٹی اور پختون قوم کی فلاح کے لیے دل و جان سے محنت کرنے کی توقع رکھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ عوام کو پتہ ہے کہ حکومت پی ٹی آئی کا ہے لیکن پھر بھی اے این پی میں شامل ہو رہے ہیں اور یہی لوگ نظریاتی، مخلص، اپنے علاقے اور پختونوں کے ساتھ محبت کرنے والے ہیں، یہی ان کے اخلاص اور محبت کی دلیل ہے اور جو لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں تو اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مفادات اور اپنے مقاصد کے پیچھے بھاگنے والے لوگ ہیں۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ چینی سفیر کے دعوت پر ان کے ساتھ ملاقات کیااور انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے وفد کے ساتھ ملاقات پر خوشی کا اظہار کیاا ور امن کے قیام کیلئے اے این پی کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا، چینی سفیر نے امن کے قیام کے لیے اے این پی کی کاوشوں کو سراہا اور اسے اعتدال پسند جماعت قرار دیا جبکہ پارٹی کے ساتھ مراسم بڑھانے کی بھی خواہش ظاہر کی ، انہوں نے کہا کہ چینی سفیریاﺅ جینگ نے واضح کیا کہ خطے میں امن کے قیام کی اشد ضرورت ہے اور اس میںاے این پی کا کردار کلیدی ہے جبکہ افغانستان میں بھی اے این پی کو تاریخی اعتبار سے احترام دیا جاتا ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ چینی سفیر نے اسفندیار ولی خان کو چین کا دورہ کرنے کی دعوت دی جسے مرکزی صدر نے قبول کر لیا ،جبکہ انہوں نے یہاں آنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ اسفندیار ولی خان نے انہیں دعوت دی اور کہا کہ باچاخان مرکز یا ولی باغ جہاں بھی آپ آنا چاہتے ہو ہم آپ کو خوش آمدید کہیں گے اور یہ ہمارے لیے خوشی اور اعزاز کی بات ہوگی۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ اسفندیار ولی خان نے چینی سفیر سے کہا کہ ہم چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے حق میں ہیں تاہم مغربی اکنامک کوریڈور میں اپنا حق بھی چاہتے ہیں کیونکہ چینی سرمایہ کاری کی افادیت مغربی اکنامک کوریڈور کے بغیر کچھ نہیں،ہماری خواہش بھی یہی ہے کہ سی پیک مکمل ہو البتہ مغربی اکنامک کوریڈور میں پختونخوا اور قبائل کو ان کا حق ملنا چاہئے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ چین کے صوبہ سیکیانگ میں بھی غربت، پسماندگی، بے روزگاری اور بدامنی ہے، وہاں دہشتگردی اور بدامنی پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے وہ ان کی بے روزگاری اور غربت ختم کر رہے ہیں تاکہ دہشت گردی پر قابو پاسکیں۔ جس کے لیے وہ مغربی اکنامک کوریڈوربنا رہے ہیں۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم نے چینی سفیر سے کہا کہ سینکیانک میں جو طریقہ اپنایا گیا وہ پختون علاقوں میں بھی کرے تاکہ یہاں بھی دہشت گردی اور بدامنی کو قابوں کیا جاسکے۔ جس پر چینی سفیر نے کہا کہ ہم ایسا ہی کریں گے اور مغربی اکنامک کوریڈور میں پختونوں کو ان کا حق دیںگے۔انہوں نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چار سال تک میٹرو بس کو جنگلہ بس کہنے والے اب خود جنگلہ بس بنا رہے ہیں، صوبائی حکومت اپنی کمیشن اور کرپشن کے لیے آر بی ٹی بنا رہی ہیں، جس کے لیے انہوں نے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی ہے، ان کے پاس نہ وقت ہے، نہ نقشہ اور نہ پی سی ون بنایاتھا، صوبائی حکومت نے بغیر کسی تیاری کے آر بی ٹی شروع کیا جس کی وجہ سے اس کا چار دفعہ نقشہ تبدیل کرنا پڑا۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ پی ٹی آئی یہ منصوبہ مقررہ وقت پر پورا نہیں کر سکتی اور یہی منصوبہ اے این پی مکمل کرے گا اور اس میں جتنا کرپشن ہوا ہے اس کا حساب بھی ان سے لے گا۔میاں افتخار حسین نے کہاکہ ڈی آئی خان ، کوہاٹ، خوشمقام ، اور مرادن میں بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات قابل مذمت ہیں تاہم اس حوالے سے حکومتی غیر سنجیدگی بھی قابل افسوس ہے ، انہوں نے کہا کہ جو حکومت تحفظ فراہم نہ کر سکے اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ، انہوں نے کہا کہ پنجاب ، سندھ اور بلوچستان کی بیٹیاں بھی ہماری اپنی بیٹیاں ہیں اور زیادتی جہاں بھی ہو گی اے این پی اس کا راستہ روکے گی۔ نقیب اللہ شہید کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سندھ میں پختونوں کے قتل کے واقعات میں اضافہ لمحہ فکریہ ہے ، انہوں نے کہا کہ راو انوار کو اس کے نیٹ ورک سمیت گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ اس کے پیچھے خفیہ ہاتھ بے نقاب کیا جا سکے، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ دوران روپوشی راو ان
وار مارا بھی جا سکتا ہے تاکہ راز پر سے کبھی پردہ نہ اٹھ سکے لہٰذا اس کی گرفتاری میں تاخیر نہ کی جائے ۔سینیٹ الیکشن کے حوالے میاں افتخار حسین نے کہا کہ سینیٹ الیکشن کے لیے ایسے لوگوں نے بھی کاغذات جمع کرائی ہیں جن کا ایک ووٹ بھی نہیں، اس کا صاف مطلب ہے کہ وہ پیسوں پر لوگوں کے ایمانوں اور ضمیروں کا سودہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور ووٹ کی خرید و فروخت کرنے والے عوام کے دشمن ہیں، اللہ اور رسول کے بھی دشمن ہیں اور ہر قیمت پر اسے روکنا چاہے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ عمران خان اے این پی پر دہشت گردی کا الزام لگا رہے ہیں کہ ان کی حکومت میں دہشت گردی تھی اور اب نہیں تو انہیں یہ سوچنا چاہئے کہ پی ٹی آئی ہی کی حکومت میں بھی تو آرمی پبلک سکول کا واقعہ پیش آیاجس میں سینکڑوں بچے شہید ہوئے، جبکہ کئی بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ ہوئی تو کیا پھر یہ پی ٹی آئی حکومت نے کیا ہے؟باچا خان یونیورسٹی میں جو واقعہ ہوا تو ہم نے تو یہ نہیں کہا کہ یہ عمران خان نے کیا ہے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ عمران خان کو تو یہ بھی پتہ نہیں کہ دہشت گردی کے اس جنگ میں انہوں نے اپنا بیٹا بھی کھو دیا ہے جبکہ دو وزیراور ایک ایم پی بھی شہید ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ایسے شخص سے ہم کس طرح حکومت کی توقع رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسی سیاست ملک و قوم کے لیے نقصان دہ ہے اور اس سے نئی نسل کی تباہی اور دہشت گردی کے لیے راہ ہموار ہو رہی ہے، انہوں نے کہا کہ نواز شریف تےن دفعہ وزیر اعظم منتخب ہوئے لیکن پارلیمنٹ کو مضبوط نہیں کیا جس کی وجہ سے اب فیصلے پارلیمنٹ کی جگہ عدالتوں میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ آج پارلیمنٹ کی عزت کیوںختم ہو رہی ہے کیونکہ تمام سیاستدان اپنے مفادات اورکرسی کے لیے حدود کراس کر رہے ہیں، ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں۔ نواز شریف اور عمران خان دونوں نے جو طریقہ اپنایا ہوا ہے یہ غلط ہے، ایک دوسرے کی بے عزتی اور اےک دوسرے کے پیچھے باتیں کرنا یہ غیر سیاسی ہے، ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خود پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا ہوگا، ہمیں پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے مضبوط قانون سازی کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والا دور اے این پی کا ہے اور انشاءاللہ عوام کے خواہشات کے مطابق ترقیاتی کاموں کے جال بچھائیں گے، کیونکہ ہم باچا خان کے سپاہی ہیں اور خدمت ہمارے خون میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018میں عوام کی خدمت کا عزم لے کر آئیں گے۔