عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے شہید بشیر احمد بلور کی چھٹی برسی کے موقع پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر کسی نے اے این پی کا اصل چہرا دیکھنا ہو تو شہید بشیر احمد بلور اور ہمارے شہید ایک ہزار کارکن عوامی نیشنل پارٹی کی عملی تصویر ہیں،عوامی نیشنل پارٹی نے افغان فساد سے لیکر پختونوں پر مسلط کی گئی جنگ میں تاریخی کردار ادا کیا ہے اور دہشتگردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں عوامی نیشنل پارٹی سرخرو ہوئی ہے،عوامی نیشنل پارٹی کل بھی باچا خان کے عدم تشدد کے راہ پر عمل پیراہ ہوکر اپنی جدوجہد کررہی تھی اور آج بھی عدم تشدد کے راہ پر عمل پیرا ہوکر اپنی جدوجہد کررہی ہے۔آج انگریز نہیں ہے لیکن باچا خان زندہ ہے،آج ڈکٹیٹرز نہیں ہے لیکن ولی خان زندہ ہے اور کل کو انشاء اللہ ہم ہوں گے،شہید بشیر احمد بلور ،ہمارے شہدا اور نظریہ ہوگا لیکن تشدد کے پیروکار اور حمایتی نہیں ہونگے،اسفندیار ولی خان کا مزید کہنا تھا کہ مسائل مذاکرات سے حل ہوتے ہیں اور اگر ریاست پاکستان نے دہشتگردی کو ختم کرنا ہے تو اُس کا واحد حل نیشنل ایکشن پلان پر من وعن عمل درآمد ہے۔نیشنل ایکشن پلان پر صرف پھانسیوں کے حد تک عمل درآمد کرنا باعث تشویش ہے،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر اس کے روح کے مطابق عمل درآمد کیا جاتا،اسفندیار ولی خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی سو سال سے یہی کہہ رہی ہے کہ تشدد کسی مسئلے کا بھی حل نہیں،آج بھی عوامی نیشنل پارٹی کسی قیمت پر تشدد کی حمایت نہیں کرتی،اسفندیار ولی خان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے نظریے اور منشور کیلئے اپنی جانوں کی بازی لگانے والے لوگ ہیں ،عوامی نیشنل پارٹی قوم کی بقاء اورارتقاء کی جنگ سے کسی صورت میں بھی دستبردار نہیں ہوگی،انہوں نے اپنے بیان میں کارکنا ن پر زور دیا کہ وہ شہید بشیر احمد بلور کی یاد میں منعقدہ برسی میں شرکت کرکے امن دشمنوں کو واضح پیغام دیں کہ پختون امن کے داعی اور امن پسند لوگ ہیں اور ہم حقیقی امن کے مطالبے سے کسی صورت دستبرادر نہیں ہونگے ۔