پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم صوبوں کے زیر انتظام آتا ہے اور حکومت کا ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم کا فیصلہ صوبائی خود مختاری پر وار ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے حکومتی فیصلے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی محکمے بارے مرکزی حکومت کا فیصلہ کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے،انہوں نے کہا کہ وفاق صوبوں کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتا ، وفاقی حکومت صوبوں کو مزید با اختیار بنانے کی بجائے دیئے گئے آئینی اختیارات واپس لینے کی کوشش کرنے سے اجتناب کرے،انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدام ملک کمزور کرنے کے مترادف ہے،سردار حسین بابک نے کہا کہ آئینی ترامیم کے ذریعے صوبوں کو اختیارات منتقل کرنے سے ان کی محرومیوں کا ازالہ ہوا ہے ، صرف مرکز کو طاقتور بنانے سے ملک کمزور اور صوبوں کو اختیارات دینے سے ملک مضبوط ہو گا،انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم صوبائی محکمہ ہے لہٰذا نصاب بنانے اور اس میں تبدیلی کا اختیار صرف صوبوں کے پاس ہے جبکہ چاروں صوبوں میں قوانین بنانے کیلئے صوبائی اسمبلیاں بھی موجود ہیں، صوبائی جنرل سیکرٹری نے مزید کہا کہ ملک میں مختلف قومیوں کے لوگ بستے ہیں جن کی زبان، رہن سہن،کلچر اور تواریخ ایک دوسرے سے مختلف ہیں،لہٰذا کثیر قومیتوں پر حکومتی اختیار کے ذریعے فیصلے مسلط کرنا ملکی کمزوری کا باعث بنے گا،انہوں نے کہا کہ ہر صوبے میں نصاب کی تبدیلی اور اسے بنانے کیلئے اپنے اپنے ادارے موجود ہیں،لہٰذا صوبوں سے اختیارات لینا ناقابل قبول ہے،انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور صوبوں کو مزید اختیارات دینے کی بجائے اختیارات کم کرنے سے گریز کرنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ حکومت آئینی ترامیم کے ذریعے صوبوں کو با اختیار بنانے کے خلاف اقدامات سے گریز کرے۔