پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ملک مزید مشکلات میں گھر چکا ہے اور الیکشن سے قبل الف لیلوی داستیں سنانے والے اسد عمر وزیر خزانہ بننے کے بعد کنفیوز ہو چکے ہیں، مدینہ کی ریاست میں صرف صراط مستقیم کی ہدایت کی گئی اس میں یوٹرن کا کہیں ذکر نہیں تھا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں اے این پی پنجاب کی ممبر سازی مہم کے افتتاح کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر اے این پی پنجاب کے الیکشن کمیشن کے ممبران بھی ان کے ہمراہ تھے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ موجودہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے اور ہم نے روز اول سے ہی اسے تسلیم نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ماسوائے پی ٹی آئی کے تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ حکومت دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے اور سلیکٹڈ وزیر اعظم کو اقتدار کی کرسی دینے والی قوتوں کو بھی اب عوام کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا، انہوں نے کہا کہ ملک کی تقدیر اور بقا کو داؤ پر لگانے کا بڑا جرم کرنے والی قوتوں کو بھی جواب دینا پڑے گا، میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ ایک ایسے شخص کو ملک کی باگ ڈور تھما دی گئی ہے جو پہلے سے اپنے لئے سو دن کا ٹائم فریم مقرر کئے بیٹھا تھا جبکہ بعد ازاں اپنے وعدوں سے مکر گیا اور سو دن سمت کے تعین میں ضائع کر دیئے ، انہوں نے کہا کہ 72سالہ ملکی تاریخ میں پاکستان کبھی بھی معاشی طور پر اتنا کمزور نہیں ہوا، ملک کو جنت بنانے کے دعوے ہوا ہو چکے ہیں اور سلیکٹڈ وزیر اعظم پاکستانی روپے کی بے قدری سے بے خبر رہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہیں اور یہ سب معاشی ،اقتصادی اور خارجی پالیسیاں نہ ہونے کی وجہ سے ہے،انہوں نے کہاکہ تاریخ میں اے این پی سے زیادہ قربانی کسی نے نہیں دی، روز اول سے ہم نے جمہوریت کی بالادستی اور اداروں کے آئینی کردار کی لڑائی لڑی اور چاہتے ہیں کہ تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں، انہوں نے کہا کہ ہم بھی ملک میں امن اور ترقی کے خواہاں ہیں آج جو امریکہ ہمیں آنکھیں دکھا رہا ہے وہی ملک میں بد امنی کے موجودہ حالات کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے جس نے اپنے مفادات کی خاطر اپنی پالیسیاں ہمارے ملک پر مسلط کیں۔