پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ احتساب سے کوئی ادارہ مبرا نہیں اور صرف سیاستدانوں کو نشانہ بنانے کی بجائے تمام اداروں کا احتساب وقت کی اہم ضرورت ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کو درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے تمام جمہوری قوتوں کو مل بیٹھ کر حل تلاش کرنا ہوگا،انہوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ ملک بننے کے بعد سے آج تک احتساب سیاستدانوں سے شروع ہو کر سیاستدانوں پر ختم ہو جاتا ہے جبکہ باقی کسی ادارے کو آج تک احتساب کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا،انہوں نے کہا کہ آرٹیکل6کا ملزم پرویز مشرف ملک سے باہر بیٹھا ہے اور جس جنہوں نے اس کا ٹرائل کرنے کی کوشش کی وہ پیشیاں بھگت رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں ہمیشہ اپوزیشن کو احتساب کے نام پر انتقام کا نشانہ بنایا جاتا رہا جبکہ اقتدار پر براجمان شخصیات احتساب سے مستثنیٰ رہیں،انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ملک میں منصفانہ اور بلا تفریق احتساب اے این پی کا روز اول سے مطالبہ رہا ہے ،البتہ حکومت وقت احتساب کوہمیشہ اپوزیشن کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے چلی آ رہی ہے ، انہوں نے کہاکہ ملک میں احتساب آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ہونا چاہئے،انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے قابل احترام ہیں تاہم احتساب کوانتقام کے طور پر استعمال کر نا ملک کی کمزوری کا باعث بنتاہے، انتقامی احتساب اور ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے اپوزیشن کو توڑنے میں ناکامی کے بعد اب نئی گیم کھیلنے کی تیاری کی جارہی ہے اور مسلط وزیر اعظم کو دو تہائی اکثریت دلانے کی غرض سے مڈٹرم الیکشن کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ پاکستان کی بقا،جمہوریت کی بالادستی،امن کے قیام اور ملک کا وقار بلند کرنے کیلئے ضروری ہے کہ تمام اداروں کا بلا امتیاز احتساب کیا جائے اور یہ تاثر ختم کیا جائے کہ ملک میں صرف سیاستدان قابل گرفت ہیں،انہوں نے کہا کہ قانون سب کیلئے یکساں ہونا چاہئے ،نواز شریف کے خلاف حالیہ فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس کیس میں سپریم کورٹ انہیں تاحیات نا اہل اور قید کی سزا سنا چکی ہے ، احتساب عدالت سے بریت کے فیصلے نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے،انہوں نے کہا کہ ان میں سے کون سا فیصلہ غلط تھا اس کا جواب کون دے گاْمیاں افتخار نے واضح کیا کہ ملک میں جمہوریت کو خطرہ درپیش ہے اور ان خطرات سے نمٹنے کیلئے تمام جمہوری قوتوں کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا،انہوں نے کہا کہ ملک سیاسی و معاشی افراتفری اور عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتااور سیاسی پارٹیوں کو انتقامی کاروائیوں سے کمزور نہیں کیا جا سکتا ۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ اصل کہانی اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کی ہے جس کیلئے عمران کے پاس مطلوبہ تعداد نہیں اور اب اسے دو تہائی اکثریت دلانے کیلئے قبل از وقت انتخابات کا کھیل جائے گا،انہوں نے کہا کہ جمہوریت ، امن اور ملک میں معاشی استحکام کیلئے تمام اپوزیشن اکٹھی ہو کر آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کرے جس کا ملک و قوم کو فائدہ ہو۔