پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صرف سیاستدانوں کو احتساب کی چکی میں پیسنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا ، مطلوبہ مقاصد کے حصول کیلئے تمام اداروں کابلا امتیاز احتساب ضروری ہے، منتخب افراد کو اقتدار تک پہنچانے کی ذمہ داری عوام کی ہے ،فوج پاکستان کی قیمت پر کسی ایک شخص کو سپورٹ کرنے سے گریز کرے، میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت سول مارشل لاء کی ایک شکل ہے اور یہ اختیار فوج کی بجائے عوام کے پاس ہونا چاہئے کہ وہ اپنے ووٹ سے اہل افراد کا انتخاب کر سکیں،انہوں نے کہا کہ خصوصی مفادات کے حصول کیلئے عمران خان کو سیلیکٹ کیا گیا ہے ،پی ٹی آئی چوروں اور کرپٹ سیاستدانوں کا ٹولہ ہے جس کے پاس عوام کو دینے کیلئے کچھ نہیں ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سندھ کی حکومت گرانے کے بھیانک نتائج برآمد ہونگے اور ملک انتشار کی جانب بڑھے گا،انہوں نے کہا کہ عمران کے فعل سے تاثر مل رہا ہے کہ اقتدار دلانے والی قوتیں اب بھی اس کے پیچھے ہیں ،اور یہی پریکٹس جاری رہی تو اس کے نتیجے میں مرکزی اور پنجاب حکومتیں بھی باقی نہیں بچیں گی، انہوں نے کہا کہ صرف جے آئی ٹی رپورٹ پر کسی وزیر اعلیٰ سے استعفیٰ طلب کرنا درست نہیں ،اگر ایسا ہوا تو نیب زدگان کو سب سے پہلے مستعفیٰ ہو جانا چاہئے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اب سپریم کورٹ نے اس بات کی گواہی دے دی ہے کہ خیبر پختونخوا میں حکومت ناکام ہو چکی ہے اور تمام ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں، انہوں نے کہا کہ احتساب کا ورد کرنے والوں کو چاہئے کہ سب سے پہلے احتساب کمیشن، بی آر ٹی اور مالم جبہ سکینڈلز کا حتساب ضروری ہے،ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ تجاوزات کے نام پر غریبوں کو بے روزگار کرنے والے وزیر اعظم کا اپنا گھر غیر قانونی ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت کا سو روزہ ناکام پلان عوام کو ورغلانے کا ایک منصوبہ تھااور سہانے خواب دکھانے والے کے پاس انڈے اور مرغیوں کے سوا کوئی پالیسی نہیں تھی، ملک کی خارجہ و داخلہ پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے دوست ممالک پاکستان سے ناراض ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران کریڈت لینے کے چکر میں ہیں اور کاکردگی کی باز پرس بھی برداشت نہیں کر سکتے ،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جمعرات کو پارٹی کے تھنک ٹینک اجلاس کے بعد مرکزی صدر اسفندیار ولی خان میڈیا کو بریفنگ دیں گے جس میں مشاورتی کمیٹی کے فیصلوں سے آگاہ کیا جائے گا۔