پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا میں معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کا نوٹس لے اور ان واقعات کی قیمت پر اپنی کامیابی کے دعوؤں سے گریز کرے ، نوشہرہ ختو خیل میں درندگی کے بعد قتل کی جانے والی معصوم بچی مناہل کی رہائشگاہ پر ان کے لواحقین سے اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا خیبر پختونخوا میں معصوم بچیوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کئے جانے والے واقعات میں اضافہ ہوا ہے تاہم بدقسمتی سے میڈیا اور سول سوسائٹی ان واقعات پر چشم پوشی اختیار کئے ہوئے ہے، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اور دیگر وزراء کو متاثرہ خاندان کی داد رسی کیلئے میدان میں آنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور ببان دہل ان واقعات کی مذمت کرتی ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ متاثرہ خاندان کے ساتھ ہر مشکل میں شانہ بشانہ کھڑے ہیں،انہوں نے کہا کہ ان واقعات کو تسلسل سے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ درندگی کے یہ واقعات دہشت گردی کی نئی شکل ہے اور حکومت ایسے واقعات پر پردہ ڈال کر دنیا کو سب اچھا کا پیغام دینے کی ناکام کوشش کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں معصوم بچیوں کی جانوں کی قیمت پر پوائنٹ سکورنگ سے گریز کریں ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ مناہل واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، ڈی آئی خان، مردان اور خوشمقام نوشہرہ میں بچیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی ایف آئی آر تک نہیں کاٹی گئی جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت مجرموں پر پردہ ڈال رہی ہے۔ جرائم کی بیخ کنی کرنے کی بجائے اس کی حوصلہ آفزائی کرنے والے حکومت کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے، انہوں نے کہا کہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بچی قاتل کو جانتی ہے لہٰذا مشکوک افراد کو حراست میں لے کر ڈی این اے کرایا جائے اور جو بھی مجرم ثابت ہو اسے قرارواقعی سزا دی جائے ،انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت میڈیا سے اپیل کی کہ وہ ان واقعات کے خلاف آواز اٹھائیں تا کہ مزید غریب لوگوں کی گود اجڑنے سے بچ سکے،