پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک میں ’’ون پارٹی گورنمنٹ‘‘ کیلئے احتساب کو انتقام کی صورت میں استعمال کیا جا رہا ہیاور جمہوریت کو درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے تمام سیاسی قیادت کو متحد ہونا پڑے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام گرینڈ نائٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ، اس موقع پر دیگر سیاسی جماعتوں کی ذیلی تنظیموں کے ارکان سمیت تمام مکتبہ فکر سے سینکڑوں افراد نے شرکت کی، میاں افتخار حسین نے پختون ایس ایف کی بنیاد اور کردار پر تٖسیلی روشنی ڈالی اور اس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی پختون ایس ایف زور شور سے سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، انہوں نے کہا کہ در حقیقت اس تنظیم کی بنیاد 1968میں رکھی گئی جس وقت ایوب کی ڈکٹیٹر شپ کا دور دورہ تھا اور قوم کو مارشل لاء کے اندھیروں سے نکالنے کیلئے اے این پی نے طلباے کی تنظیم کی بنیاد رکھی جس نے مارشل لاء کے خلاف تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم چلائی ،انہوں نے کہا کہ انتہائی نا مساعد حالات کے باوجود پختون ایس ایف نے اپنا سفر جاری رکھا اور باچا خان اور ولی خان کی سوچ و فکر پر عمل کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان کی قیادت میں سرخ جھنڈے تلے اے این پی کے ہراول دستہ کا کردار ادا کر رہی ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ موجودہ وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ پختون اپنے مسائل کا ادراک کریں اور خدمت انسانیت کو اپنا شعار بنا کر بلا رنگ ونسل وزبان تمام قومیتوں کے حقوق کی جنگ لڑیں، انہوں نے کہا کہ آج ایک بار پھر جمہوریت کو خطرات کا سامنا ہے جس کیلئے سیاسی قیادت کو تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے متحد ہونا ہو گا، انہوں نے کہا کہ ملک میں احتساب کو اپوزیشن کے خلاف سیاسی انتقام کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ، اے این پی ہمیشہ سے بلا امتیاز احتساب کا مطالبہ کرتی آئی ہے تاہم اسے اپوزیشن کی گردن کاٹنے کیلئے حکومتی تلوار کے طور پر استعمال نہ کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک میں ون پارٹی گورنمنٹ کیلئے جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہو رہی ہے، پاکستان عمران خان کو دو تہائی اکثریت دلانے کی قیمت ادا کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی بجائے بلا تفریق اور غیر جانبدارانہ احتساب کیا جانا چاہئے اور اس کی شروعات حکومت میں شامل افراد سے کی جائے، بین الاقوامی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہافغانستان میں ہونے والے امن مذاکرات اور اس میں پاکستان کا مثبت کردار خوش آئند ہے البتہ حکومت افغانستان کی شرکت کے بغیر امن مذاکرات بے معنی ہونگے ، انہوں نے کہا کہ دیرپا اور پائیدار امن کے قیام کی خاطر افغان حکومت کو اعتماد میں لے کر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جائے،انہوں نے واضح کیا کہ اس بار بھی فریق بننے کا عمل جاری رہا تو یہ ایک نئی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو گا،انہوں نے کہا کہ حکومت جسے امریکی درخواست کہہ رہی ہے در اصل وہ ڈومور سے زیادہ کی نئی شکل ہے،لہٰذا ھکومت اس نازک مسئلے پر سوچ بچار کے بعد قدم اٹھائے ، انہوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ساتھ ساتھ داعش کی موجودگی پر بھی نظر رکھی جائے اور اگر ایسا نہ ہوا تو پائیدار امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا،انہوں نے کہا کہ اے این پی نے ہمیشہ ہر جابر و ظالمکا مقابلہ کیا اور مستقبل میں بھی عوامی نیشنل پارٹی اسفندیار ولی خان کی قیادت میں متحد رہتے ہوئے سماجی انصاف ، معاشی انقلاب اور انسانیت کی خدمت کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی۔