پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے بغیر خطے میں ترقی نا ممکن ہے اور اس مقصد کیلئے آزاد خارجہ پالیسی کی تشکیل ملک کے بہتر مفاد میں ہے، افغانستان میں امن مذاکرات کی کامیابی کی کنجی تمام سٹیک ہولڈرز کے ہاتھ میں ہے ، امن مذاکرات کے ساتھ ساتھ داعش کے مستقبل بارے حکمت عملی واضح کیا جانا انتہائی ضروری ہو گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیوٹا ہال پشاور یونیورسٹی میں باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقدہ پاک افغان امن کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ماضی میں بنائی گئی ناکام خارجہ پالیسیوں کے باعث کٹھن مراحل اور ادوار سے گزرنا پڑا جس کا خمیازہ قوم نے بھگتا ، انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اور موجودہ حالات ہم سے تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان دونوں اپنی ناکام داخلہ و خارجہ پالیسیاں تبدیل کر کے انہیں قومی مفاد میں تشکیل دیں ، انہوں نے کہا کہ سپر پاورز کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے بنائی گئی پالیسیوں نے خطے کے امن کو نقصان پہنچایا ، میاں افتخار حسین نے پاک افغان امن مذاکرات کوخوش آئند قرار دیا تاہم انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے قیام کیلئے کی جانے والی کوششوں میں افغان حکومت کو بھی اعتماد میں لیا جائے ، انہوں نے کہا کہ ہم باچا خان بابا کے عدم تشدد کے پیروکار ہیں اور پوری دنیا میں امن کے خواہاں ہیں ، انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور مسائل کے حل کیلئے مذاکرات سے بہتر کوئی آپشن نہیں ،اے این پی کے دور میں ملاکنڈ میں امن عامہ کیلئے ہم نے مذاکرات کو ترجیح دی تاہم طالبان کی جانب سے اس عمل کی خلاف ورزی کے بعد تمام سٹیک ہولڈرز اور پوری قوم نے کاروائی کی ضرورت محسوس کی، انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو امن عمل میں کردار ادا کرنے کا خط در حقیقت ڈومور کا مطالبہ تھا جسے ہمارے حکومت نے درخواست کا نام دیا ،البتہ پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب رہا ، انہوں نے کہا کہ افغانستان حکومت کی شرکت کے بغیر امن مذاکرات لا حاصل ہو نگے اور اس سے مسائل بڑھنے کا اندیشہ ہو سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ روس اور چین کا ان مذاکرات میں کردار مسلمہ ہے اور ان ممالک کی شرکت بغیر مسئلہ حل نہیں ہو سکتا،انہوں نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی صورتحال میں امریکہ اور چین دو سپرپاورز خطے میں اپنا اثرورسوخ قائم رکھے ہوئے ہیں ،پاکستان کو بھی چاہئے کہ بدلتے ہوے حالات سے فائدہ اٹھائے اور تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات برابری کی بنیاد پر قائم کرے،انہوں نے بھارت کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا نے روس کے ساتھ تعلقات قائم رکھے لیکن امریکہ کو کبھی ناراض نہیں کیا،انہوں نے کہا کہ اب مشرف اور ضیاالحق کی پالیسیوں سے سبق سیکھنا ہو گا اور مستقبل میں ایسی غلطیاں دہرانے سے گریز کرنا ہو گا،میاں افتخار حسین نے حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ پاکستان کیلئے تجارت کے لحاظ سے سب سے بڑی منڈی افغانستان ہے اور اگر اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو ملک تجارتی منڈی سے محروم ہو جائے گا، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور افغانستان میں امن کے قیام میں پختونوں کا کردار تاریخی اہمیت کا حامل ہے ،لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ کرتار پور راہداری کھولنے کے بعد اب پاکستان اور افغانستان کے پختونوں کے درمیان تجارتی و ثقافتہ رشتوں کو مضبوط کرنے کیلئے عملی اقدامات کرے ،انہوں نے افغانستان سے امریکی انخلاء کے حوالے سے امید ظاہر کی کہ انخلاء سے قبل امریکہ نے وہاں کے انفراسٹرکچر کی تعمیر اور افغان فوج کو تربیت کے لحاظ سے اس قابل کر دیا ہو گا کہ آنے والے حالات میں وہ ملک سنبھال سکے،انہوں نے کہا کہ داعش کی موجودگی اہم سوالیہ نشان ہے اگر امن مذاکرات میں داعش کو باہر رکھا گیا ہے تو مستقبل میں امن کو خطرات درپیش رہیں گے لہٰذا اس کے تدارک کیلئے بھی تمام سٹیک ہولڈرز کو حل سوچنا ہو گا۔