پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور نے خیبر پختونخوا پر بجلی و گیس کی بندش پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ مرکز سے اپنے جائز حقوق کے حصول میں ناکامی کے بعد صوبائی حکومت کو فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہئے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو یہ علم ہونا چاہئے کہ اس سے زیادہ ہمیں اس انگریز نے دیا تھا جس کے ہم غلام تھے ، انہوں نے کہا کہ دور غلامی میں تعلیم ،صحت،بجلی اور تمام معدنیات پر ہمارے صوبے کا حق تھا لیکن ون یونٹ بنانے کے بعد تمام سہولیات ہم سے چھین لی گئیں ، حاجی غلام احمد بلور نے مزید کہا کہ بجلی اور گیس ہمارے صوبے کی پیداوار ہے لیکن بدقسمتی سے اس کی باگ ڈور پنجاب کے ہاتھ میں دے کر خیبر پختونخوا کو اس کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ پنجاب بڑا بھائی ہے لیکن ہمارے ساتھ بھائیوں کی بجائے غلاموں جیسا سلوک کر رہا ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے ، انہوں نے کہا کہ سخت سردی کے باوجود صوبے میں گیس بندش نے ہمارے صوبے کے عوام کو ذہنی کرب میں مبتلا کر دیا ہے،انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام پر گیس اور بجلی بند کر کے غلامی کا احساس پیدا کیا جا رہا ہے اور اس سے لوگوں میں احساس محرومی پیدا ہو رہا ہے، ہمارا صوبہ خیبر پختونخوا اس حوالے سے انتہائی بدنصیب ہے کیونکہ اٹھارویں ترمیم میں یہ کہا گیا ہے جو چیز جس صوبے میں پیدا ہوتی ہے اُسی صوبے کا حق سب سے پہلے اس پر ہوتا ہے ۔ گیس جو ہمارے صوبے میں ضرورت سے زیادہ پائی جاتی ہے لیکن ہمارے صوبے میں لوگوں کو گیس نہیں مل رہی پشاور جو کہ اس صوبے کا دارالخلافہ ہے پر گیس کا نام و نشان تک نہیں رہا اور گھروں میں لوگ لکڑیاں جلا رہے ہیں۔اسی طرح سخت سردی میں گیس بندش کی وجہ سے بچوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ کسی قسم کا جانی نقصان ہوا تو اس کی ذمہ داری مرکزی حکومت پر ہوگی، اے این پی نے اپنے دور میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبے کے حقوق حاصل کئے لیکن آج تک ہمیں اپنے صوبے کی پیداوار گیس اور بجلی سے محروم رکھا جا رہا ہے ، انہوں نے حکومت سے استفسار کیا کہ ہمیں اپنی حیثیت بتائی جائے کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ غلاموں سے بدتر سلوک کیوں کیاجا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ مرکز اور صوبے میں ایک ہی جماعت حکومت میں ہے اس کے باوجود صوبائی حکومت اپنے جائز حقوق پر چپ سادھ لی ہے، انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم میں ہمیں جو کچھ دیا گیا اس سے زیادہ ہمیں انگریز دے کر گیا تھا جو کسی کو ایک آنکھ نہ بھایا اور صوبے کو اس کے جائز حقوق سے محروم کر دیا گیا،حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ صوبائی حکومت کی خاموشی تحفظات کو جنم دے رہی ہے اور اگر وہ اپنے حقوق کی جدوجہد نہیں کر سکتی تو فوری اقتدار سے الگ ہو جائے،انہوں نے واضح کیا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم عوامی نیشنل پارٹی کی سابق حکومت کا کارنامہ ہے اور اس کارنامے کے بل بوتے پر چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی ختم ہوا،
انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو نظر نہ آنے والی قوتوں کی جانب سے اٹھارویں آئینی ترمیم میں چھیڑ چھاڑ کا جو ٹاسک دیا گیا ہے وہ آسان نہیں ہو گا کیونکہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے ساتھ نہ صرف پختون قوم کا مستقبل جڑا ہوا ہے بلکہ ملک میں زیادتی کا شکار ہونے والی دیگر قومیتیں بھی متاثر ہونگی۔