پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ملک میں پائیدار اور دیرپا امن کے قیام کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر من و عن عمل کیا جانا چاہئے اور تمام وہ اقدامات اُٹھائے جائیں جس سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا جا سکے ،شہید امن بشیر احمد بلور کی چھٹی برسی کے حوالے سے باچا خان مرکز میں تنظیمی عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہید بشیر احمد بلور دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور بڑی دلیری کیساتھ جام شہادت نوش کرنے والے دیگر لوگوں کیلئے ایک علامت اور ایک مثال بن چکے ہیں،انہوں نے شہید کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے عوام کو دہشت گردی کے ناسورسے بچانے کیلئے بشیر احمد بلور نے جو قربانی دی وہ تاریخ کا انمٹ باب ہے،ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت چکائی ہے اور ہمیشہ دہشت گردوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئی جس کے نتیجے میں جماعت کے ایک ہزار سے زائد عہدیداروں، کارکنوں اور بالخصوص ارکان اسمبلی نے جانوں کے نذرانے پیش کئے ، انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ اتنی بڑی قربانی کے باوجود آج بھی ملک میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہ ہو سکے،انہوں نے کہا کہ باچا خان کا راستہ ہمیں بہت سی قربانیوں ،شہادتوں اور الزامات کا سامنا کرنے کے بعد ملا اور اس ساری جدوجہد میں بشیر احمد بلور کا نام صف اول میں شمار ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ اچھے اور برے دہشتگرد کا فرق دراصل دہشتگردی کو دوام بخش رہا ہے اور ملک مزید ایسی غیر منطقی سوچ کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ دہشتگرد صرف دہشتگرد ہوتا ہے اور سابقہ یا لاحقہ اس کے معنی تبدیل نہیں کئے جا سکتے، تاہم اگر ریاستی اور حکومتی سطح پر اس سوچ میں تبدیلی آ گئی کہ اچھے اور برے طالب یا دہشتگرد کی تفریق کے بغیر ایک جامع کارروائی ہونی چاہیے تو یہ نہایت خوش آئند امر ہوگا،ایمل ولی خان نے کہا کہ پاکستان اور خطے کو پر امن اور مستحکم بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ماضی کی غلطیاں دہرانے کی بجائے نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور افغانستان سمیت دیگر پڑوسیوں کیساتھ برادرانہ تعلقات کا آغاز کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ امن اور علم کی خاطر جام شہادت نوش کرنے والوں کا نام تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا، آرمی بپلک سکول پشاور کے سانحے کے بعد دہشت گردی کے خلاف یکجہتی کی جو فضا قائم ہو ئی تھی اگر اس وقت پس و پیش سے کام نہ لیا جاتا تو دہشت گردی کے خاتمے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی جا سکتی تھی ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مصلحت سے قطع نظر ادھر ادھر کی باتیں چھوڑ کر دہشت گردی کے خلاف ایک نکتے پر متفق ہو نا پڑے گا کیونکہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے ،انہوں نے کہا کہ داعش ایک حقیقت ہے جو القاعدہ کی ناکامی کے بعد اسرائیل نے قائم کی ، اور پیسے کی خاطر دہشت گرد اب داعش میں شامل ہو رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیمیں نام بدل بدل کر کاروائیاں کر رہی ہیں جبکہ فلاحی سرگرمیوں کے نام پر بھی کئی کالعدم تنظیمیں میدان عمل میں ہیں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسی تنظیموں کے خلاف فوری طور پر کاروائی کر کے ان کی بیخ کنی کی جائے ، انہوں نے کہا کہ ملک کی پہلی ترجیح دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔