مقتدر قوتیں عمران خان کو دو تہائی اکثریت کیلئے دوبارہ انتخابات کی راہ ہموار کر نے کیلئے گیم کھیل رہی ہیں۔

شفاف الیکشن کرا کے اکثریتی جماعت کو اقتدار حوالہ کیا جائے، ملک کی بقاء سے کھلواڑ کی اجازت نہیں دیں گے۔

نااہل وزیر اعظم نے سو دن میں ملک کا حلیہ بگاڑ دیا ہے ، یوٹرن لینے والا قوم کی رہنمائی کبھی نہیں کر سکتا۔

اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ، اے این پی یہ سازش کبھی کامیاب نہیں ہونے دیگی۔

نئے پاکستان میں علیم خان اور علیمہ خان کی ناجائز بے نامی جائیدادیں جرمانہ کر کے ڈکلیئر کی جا رہی ہیں۔

شہید بشیر احمد بلور دہشت گردی کے خلاف توانا آواز تھے ،قربانی اور خدمات کو سلام پیش کرتے ہیں۔

افغان امن ماکرات کی کامیابی کیلئے دعا گو ہیں۔پشاور میں شہید بشیر احمد بلور کی برسی کے موقع پر جلسہ عام سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے ملک میں نئے شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقتدر قوتیں مسلم لیگ ن کے بعد پیپلزپارٹی کو لگام دے کر نئے انتخابات کے ذریعے عمران خان کو دو تہائی اکثریت دلانے جو ڈرامہ رچا رہی ہیں وہ اب کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے،ملکی بقا، امن کے قیام ، غربت کے خاتمے اور روزگار کی فراہمی کیلئے نئے شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرائے جائیں اور اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو اقتدار حوالے کیا جائے،ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور،جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ، صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے نمک منڈی چوک پشاور میں شہید امن بشیر احمد بلور کی چھٹی برسی کے موقع پر منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا،مقررین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والوں اور امن کی خاطر جام شہادت نوش کرنے پر شہید بشیر احمد بلور کی قربانیوں اور خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ شہید بشیر احمد بلور نے ہمیشہ قوم کو دہشت گردی کے ناسور سے بچانے کیلئے آواز بلند کی اور دہشت گردوں ہمیشہ اس آواز کو اپنے راستے کی رکاوٹ سمجھتے تھے، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت چکائی ہے اور ہمیشہ دہشت گردوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئی جس کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد عہدیداروں، کارکنوں اور بالخصوص ارکان اسمبلی نے جانوں کے نذرانے پیش کئے ،مقررین نے استفسار کیا کہ پختوننوں کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھانے والے ان کا قصور بتائیں، آج مارنے والا بھی پختون ہے اور مرنے والا بھی ،ہمیں کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے، ملک کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی بقاء سے کھلواڑ کی اجازت نہیں دیں گے،پاکستان کی حقیقی معنوں میں ترقی کیلئے شفاف انتخابات واحد آپشن ہیں،نااہل وزیر اعظم نے سو دن میں ملک کا حلیہ بگاڑ دیا ہے ،انہوں نے کہا کہ یوٹرن لینے والا قوم کی رہنمائی کبھی نہیں کر سکتا ، مدینہ کی ریاست میں یوٹرن کا کہیں ذکر نہیں صرف صراط مستقیم کی بات ہوتی تھی،مقررین نے کہا کہ اس وقت ملک کی خارجہ و داخلہ پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں جبکہ سلیکٹڈ وزیر اعظم نے ملک کی معاشی پالیسی داؤ پر لگا دیا ہے،انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں قانونی و انتظامی اصلاحات فوری طور پر کی جائیں اور قبائلی اضلاع کیلئے منظور شدہ سو ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کو وہاں کی ترقی کیلئے استعمال میں لایا جائے، انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہے اور عوام ذہنی کرب میں مبتلا ہیں، انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن اے این پی یہ سازش کبھی کامیاب نہیں ہونے دیگی ، مقررین نے کہا کہ پاکستان میں بے نامی اکاؤنٹ سامنے آ رہے ہیں لیکن دہشت گردی کے خلاف امریکہ سے سے آنے والے کس کے اکاؤنٹ میں آئے اس کی وضاحت ہونی چاہئے ،علیم خان اور علیمہ خان کی ناجائز بے نامی جائیدادیں جرمانہ کر کے ڈکلیئر کی جا رہی ہیں، مقررین نے کہا کہ افغان امن مذاکرات کے حوالے سے مثبت باز گشت سنائی دے رہی ہے، ہم امن کے خواہاں ہیں اور امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے دعا گو ہیں تاہم امریکہ پاکستان کے حوالے سے ہمیں ڈکٹیشن دینے سے گریز کرے۔انہوں نے آخر میں پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اپنے شہداء اور اسلاف کے نقش قدم کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں اور پارٹی کی طرف سے جاری ممبر شپ میں بھرپور حصہ لیں۔