پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ ملک کی ترقی اور استحکام کیلئے اداروں کی آزادانہ حیثیت ناگزیر ہے اور ملکی سالمیت کی خاطر سب کیلئے احتساب کا ایک پیمانہ ہونا چاہئے، سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت کے فیصلے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں منصفانہ اور بلا تفریق احتساب اے این پی کا روز اول سے مطالبہ رہا ہے ،البتہ حکومت وقت احتساب کوہمیشہ اپوزیشن کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے چلی آ رہی ہے ، انہوں نے کہاکہ ملک میں احتساب آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ہونا چاہئے،انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے قابل احترام ہیں تاہم احتساب کوانتقام کے طور پر استعمال کر نا ملک کی کمزوری کا باعث بنتاہے اور صرف سیاستدانوں کو نشانہ بنا کر کیا پیغام دیا جا رہا ہے،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ ملک میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ احتساب کب شروع ہو گا؟، انہوں نے کہا کہ بادی النظر میں میں آج کے فیصلے سے بھی ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومت احتساب کے حوالے سے محفوظ ہاتھوں میں ہے، انہوں نے کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ فلیگ شپ ریفرنس میں بریت کا فیصلہ نواز شریف کے تاحیات نا اہلی کے فیصلے پر اثر انداز ہو گا؟ انہوں نے کہا کہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ احتساب کے بغیر ہونے والے فیصلوں پر انگلیاں اٹھتی رہیں گی، سیاسی معاملات کے حل کیلئے پارلیمنٹ بہترین فورم ہے،ملک کی ترقی اور استحکام کیلئے اداروں کی آزادانہ حیثیت ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک سیاسی و معاشی افراتفری اور عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتااور سیاسی پارٹیوں کو انتقامی کاروائیوں سے کمزور نہیں کیا جا سکتا ۔