پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ قوم ہیلی کاپٹر کے ناجائز استعمال کے کیس کا انتظار کر رہی ہے ،وزیر اعظم کو احتساب کے کٹہرے میں لانے سے ملک کا وقار بلند ہو گا،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر کیس اور اراضی قبضے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے اور تحقیقات مکمل ہونے تک وزیر اعظم کو اخلاقی طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہئے، انہوں نے کہا کہ سیاسی قوتوں کے خلاف نام نہاد کیسز اور پابند سلاسل کرنے سے اپوزیشن کو کمزور نہیں کیا جا سکتا ،عمران خان بنی گالہ میں اراضی پر ناجائز قبضہ کا اقرار کر چکے ہیں ،جرم کا اقرار کرنے والا صادق امین کیسے ہو سکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ سو دن کا پلان پی ٹی آئی کے اپنے نقشے پر بھی کہیں دکھائی نہیں دے رہا ،پچاس لاکھ گھر وں کی تعمیر چند شیلٹر ہومز میں تبدیل کر کے خاموشی اختیار کر لی گئی جبکہ ایک کروڑ نوکریاں دینے کی بجائے لاکھوں خاندانوں کو تجاوزات کے نام پر بے روزگار کر دیا گیا، ایمل خان نے کہا کہ یوٹرن کو معیار بنانے والا شخص قوم کی رہنمائی کیسے کر سکتا ہے ،انہوں نے کہا کہ حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات آخری سانسیں لے رہے ہیں اور ملک عالمی سطح پر تنہائی کا شکا ر ہو چکا ہے ، ملک کی ناکام داخلہ و خارجہ پالیسیوں کے باعث دنیا کو کوئی ملک پاکستان پر اعتبار کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ دن رات احتساب کا ورد کرنے خود کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں جبکہ چیف جسٹس کرپٹ عناصر کو معمولی جرمانے کر کے ایمانداری کا لائسنس دینے میں مصروف ہیں ، انہوں نے کہا کہ احتساب بلا امتیاز ہونا چاہئے اور مسلط وزیراعظم کو ان کی ہمشیرہ سمیت احتساب کی گرفت میں لایا جانا چاہئے، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی گزشتہ پانچ سالہ حکومت میں کرپشن اور کمیشن کی بنیاد پر شروع کی گئی بی آر ٹی پشاور کے عوام کیلئے وبال جان بن چکی ہے اور احتسابی ادارے کرپشن کے ثبوت ملنے کے باوجود خاموش ہیں ، انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی 35سے82ارب روپے تک جا پہنچی لیکن نیب اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے جس سے ان شکوک و شبہات کو تقویت مل رہی ہے کہ نیب حکومت کی کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہا ہے، ایمل خان نے کہا کہ خیبر بنک کرپشن سکینڈل میں خود صوبائی حکومت ملوث تھی جبکہ احتساب کمیشن صرف مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کیلئے شروع کیا گیا اور جب اس کمیشن نے حکومتی وزراء پر ہاتھ ڈالا تو اسے تالے لگا دیئے گئے، انہوں نے کہا کہ احتساب کمیشن پر آنے والے اربوں روپے کے اخراجات کی وضاحت کی جائے، اتنے بڑے پیمانے پر کرپشن اور بدعنوانیوں کے باوجود کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ،انہوں نے کہا کہ مالم جبہ اراضی سکینڈل ، بلین ٹری سونامی کے نام پر اربوں کے گھپلے اور دیگر کرپشن کیسوں کے باوجود احتساب صرف اپوزیشن کا ہو رہا ہے،ایمل ولی خان نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں اقتصادی و معاشی نظام وینٹی لیٹر پر ہے اور وزیر اعظم بھینسوں، انڈوں اور مرغیوں سے ملکی نظام چلانے کے خواب دیکھ رہے ہیں، زرعی پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے غریب کاشتکار زبوں حالی کا شکار ہے ، انہوں نے کہا کہ تعلیم ،صحٹ اور زراعت جیسے شعبوں پر حکومتی غٖلت اور لاپرواہی نے عوام کو تذبذب میں مبتلا کر دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ میڈیا پر پابندی لگا کر حکمران اپنی مرضی سے ملک کا دیوالیہ کرنے پر تلے ہیں اور پارلیمنٹ کو زیرو کر کے آرڈیننس کا سہارا لیا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی، امن کے قیام اور جمہوریت کی بالادستی کیلئے احتساب کا عمل حکومت سے شروع کیا جائے اور کٹھ پتلی وزیر اعظم ہیلی کاپٹر اور اراضی ناجائز قبضے کی مکمل تحقیقات تک عہدے سے الگ ہو جائیں۔