پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک میں جاری ضیا دور کی پالیسیوں سے نکل کر درست سمت کا تعین کرنا ہوگا،کنفیوزامریکہ نے بلیک لسٹ سے استثنیٰ دے کر ہماری لاج تو رکھ لی ہے لیکن مذہبی انتہا پسندی اور گڈ بیڈ کے چکر سے نکلے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا،صوابی میں ٹیسٹ کرکٹر یاسر شاہ کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہضیا ء الحق نے اپنے دور آمریت میں امریکی ایما پر ایسے انسان دشمن رویوں کو تقویت دی جس کے نتیجے میں آج تک پاکستان میں شیعہ سنی سے بریلوی اور اہلحدیث تک سب ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔صحافیوں سے بات چیت میں موجودہ احتساب کے نظام پر بات کرتے ہوئے میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ عمرانی مارشل لاء میں احتساب صرف عمران خان کے سیاسی مخالفین اور سچ بات بولنے والوں کا ہورہا ہے،اگر سیلیکٹڈ وزیر اعظم نے احتساب کا یہ فارمولہ اپنی کابینہ پر لاگو کردیا تو کپتان سمیت کوئی بھی نہیں بچے گا،انہوں نے کہا کہ علیمہ خان کی اربوں روپے کی بے نامی جائیداد اور زلفی بخاری کا کردار ملک کو مدینہ جیسی ریاست بنانے والوں کی ایک جھلک ہے ،حمزہ شہباز کو ای سی ایل میں نام نہ ہونے کے باوجود آف لوڈ کیاجاتا ہے جبکہ زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکاللنے کیلئے اداروں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے،کیا ریاست مدینہ میں انصاف کا پیمانہ یہی تھا؟میاں افتخار حسین نے اپوزیشن جماعتوں کو بھی متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اب بھی اپوزیشن جماعتیں اصل معنوں میں اکھٹی نہ ہوئی تو جمہوریت اور جمہوری نظام کا انجام بہت برا ہونے والا ہے،اپوزیشن جماعتوں کو اب حقیقی معنوں میں متحد ہونا پڑے گا کیونکہ عمران خان کسی اور کی دی ہوئی ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے،افغان امن عمل کے حوالے سے میاں افتخار کا کہنا تھا کہ افغانستان امن مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار تمام سٹیک ہولڈرز کی صدق دل سے کی جانے والی کوششوں پر ہے ،انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات افغانستان سمیت پاکستان کی بقاء اور سلامتی کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور اگر طالبان نے مذاکراتی عمل میں شرکت سے انکار کیا تو پاکستان اس کے بھیانک نتائج کی زد میں آجائے گا۔