پشاور(نیوزرپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلزپارٹی کے ارکان کی جانب سے تحریک التواء پر صوبائی حکومت نے طاہر داوڑ کے اغواء اور قتل سے متعلق واقعے کی معلومات پر ان کیمرہ سیشن اجلاس اگلے ہفتے منعقد کرانے پر رضامندی ظاہر کردی ہے اس سلسلے میں جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی رہنما سردار حسین بابک نے ایوان میں تحریک التواء پر بحث کرتے ہوئے ایس پی طاہر داوڑ کے قتل اور اسلام آباد سے اغواء ہونے کے واقعے کے حوالے سے پرجوش تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پختون ہونا جرم بن گیا ہے خیبر پختونخوا پولیس کا حاضر سروس افسر ملک کے دارالحکومت سے اغواء ہوا،19روز تک تمام ایجنسیاں اور پولیس اسکا سراغ لگانے میں ناکام رہیں، وزارت داخلہ نے اس معاملے کو حساس قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے بات نہیں کی جبکہ پولیس سربراہ اور دوسرے حکام بھی اس واقعے پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت معاملات پر بات نہیں کرسکتی توصوبائی اسمبلی کے ممبران یا پھر پارلیمانی لیڈرز کو ان سیشن کیمرہ اجلاس میں بتایاجائے کس نے کس مقصد کیلئے یہ اغواء اور قتل کیا۔ سردار حسین بابک کی اس جذباتی تقریر پر وزیر قانون سلطان محمد خان ا ور وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے ایوان کو بتایا کہ طاہر داوڑ کا قتل اور اغواء نیشنل سکیورٹی کا معاملہ ہے جس کیلئے صوبائی اسمبلی کے پارلیمانی لیڈرز کو ان کیمرہ سیشن میں بریفنگ دینے پر رضامندہیں۔