پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ چار برس بیت جانے کے باوجود بھی سانحہ اے پی ایس کے زخم مندمل نہیں ہوئے اور سانحہ پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے ،معصوم بچوں کا قاتل سرکاری مہمان خانے کی زینت بنا ہے جبکہ اے پی ایس شہداء کے لواحقین آج تک انصاف کے منتظر ہیں، چار سال تک سانحہ کے اصل محرکات قوم کے سامنے نہ لائے جا سکے،آرمی پبلک سکول سانحہ کی چوتھی برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ حملہ آور انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں تھے،جب تک دہشت گردانہ ذہنیت کی پیداوار ،آماجگاہوں اور پنا ہ گاہوں کو ختم نہیں کیا جاتا اس وقت تک امن اور ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ درسگاہوں پر حملہ کرنیو الے بیمار ذہنیت اور جاہلیت کے پیرو کار ہیں شدت پسندانہ نظریات اور سوچ کو زبردستی مسلط کرنے والوں کے ہاتھ نہ روکے گئے تو مستقبل یونہی خطرے میں رہے گا۔انہوں نے کہا کہ مجرموں کا بروقت سراغ لگا کر کیفر کردار تک پہنچا دیا جاتا تو مردان،چارسدہ،کوئٹہ اور زرعی یونیورسٹی پشاور جیسے واقعات رونما نہ ہوتے لیکن ریاست اور حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔شہدائے اے پی ایس کے لواحقین مجرموں کو کیفر کردارتک پہنچانے کیلئے چوکوں چوراہوں میں دھرنے دیتے رہے ہیں لیکن نیشنل ایکشن پلان بنانے والوں کے دل و دماغ پر لواحقین کی چیخوں کا کوئی اثر نہیں ہو ا۔انہوں نے کہا کہ چار سال بعد جوڈیشل کمیشن تو قائم کر دیا گیا اب توقع ہے کہ اس کمیشن کا فیصلہ شہید بچوں کے والدین کے زخموں پر مرہم کا کام کر سکے ،ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہدا کے لواحقین کے تمام تحفظات دور کرتے ہوئے ان کے تمام مطالبات تسلیم کرے،انہوں نے مزید کہا کہ کالعدم تنظیمیں دار الحکومت میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔دہشت گردوں کے سہولت کار،مددگار کھلے عام اسلحہ برداروں کے ہمراہ نہ صرف ملک بھر میں دندناتے پھررہے ہیں بلکہ اب ملکی سیاست میں بھی حصہ لے رہے ہیں، تاہم انہیں پکڑنے اور روکنے والا کوئی نہیں، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی کی رائے ہے کہ اچھے اور برے کی تمیز سے نکل کر جب تک امن کو پہلی ترجیح نہیں بنائی جائے گی اس وقت تک سانحہ اے پی ایس جیسے حملے اور واقعات کو نہیں روکا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے باچا خان بابا کی سوچ و فکر کی ساری دنیا کو ضرورت ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بڑے دہشت گرد موجود ہیں اور کالعدم تنظیموں کی صورت میں چندہ اکٹھا کر کے دہشت گردی کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے چند نکات پر عمل درآمد ہوا تاہم اب بھی بیشتر نکات پر عمل ہونا باقی ہے اور یہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی نا اہلی ہے ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری ہماری صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت دونوں پر عائد ہوتی ہے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں بڑی تباہی سے بچنے کیلئے سانحہ اے پی ایس کے اصل محرکات قوم کے سامنے لائے جائیں اور گڈ و بیڈ کی تمیز ختم کر کے تمام دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کی جائے اور اس کیلئے بہترین آپشن ’’ نیپ‘‘ پر من و عن عمل درآمد کے سوا کچھ نہیں۔انہوں نے کہا کہ اب اعتماد کی فضا بن رہی ہے اور اگر اس عارضی امن سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو القاعدہ سے بڑا خطرہ داعش کی صورت میں سامنے بیٹھا ہے جسے دنیا کے 40ممالک فنڈنگ کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک پر اب بھی سوالات موجود ہیں اور حکمرانوں کو پوزیشن واضح کرنی چاہئے۔