کاسمیٹکس اعلانات سے عوام کے مسائل کس حد تک حل ہونگے،؟سردار حسین بابک

ملک میں کرپشن کی روک تھام کیلئے موجوداحتساب کا قانون نامکمل ہے، حکومت اپنی پالیسی بتائے۔

ریلوے ،پاکستان سٹیل مل، واپڈا اور پی آئی اے کا مستقبل کیا ہو گا۔

بنکوں سے کھربوں کا قرضہ معاف کرانے اور قومی املاک ہتھیانے والوں کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔

این ایف سی ایوارڈ کااجراء کب ہو گا؟عوام جاننا چاہتے ہیں۔

ترقیاتی اور دفاعی بجٹ کے بارے میں عوام وزیر اعظم کی پالیسی کے منتظر ہیں۔

پڑوسی ممالک کے ساتھ بااعتماد اور دوستانہ تعلقات کو یقینی بنایا جا سکے گا؟

سی پیک میں چھوٹے صوبوں کو نظرانداز کیا گیا ہے وزیر اعظم ازالہ کریں گے؟

مہنگائی، بے روزگاری ،بدامنی اور بھتہ خوری کے ماحول میں عوام کتنے چندے دے سکیں گے؟

امن و امان کی بدترین صورتحال میں سرمایہ کاری کے کتنے امکانات ہیں؟

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے وزیر اعظم کے قوم سے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے ملک میں کرپشن کی روک تھام کیلئے موجود احتساب کاقانون ہی نامکمل ہے ، اور ملک کے اہم ترین اداروں پر احتساب کا قانون لاگو ہی نہیں ہو رہا ، حکومت واضح کرے کہ احتساب کے عمل کو یقینی بنانے کیلئے قانون کو مکمل کر پائیں گے؟حکومت اس سلسلے میں اپنی پالیسی بتائے،میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تقریر میں بیشتر ایسے نکات کو فراموش کیا گیا جس کی وجہ سے ملک بدحالی کا شکار ہے، ریلوے ،پاکستان سٹیل مل، واپڈا،اور پی آئی اے کے مستقبل کوئی لائحہ عمل نہیں دیا گیا، جبکہ ملکی بنکوں سے کھربوں کا قرضہ معاف کرانے اور قومی املاک اپنے اور اپنے رشتہ داروں کے نام کرانے والوں کا ذکر نہیں کیا گیا،انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کو یکسر نظر انداز کیا گیا اور بیشتر اہم مسائل اور ضروریات کا احاطہ نہیں کیا گیا، سردار حسین بابک نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کے حقوق کی کوئی بات نہیں کی گئی حالانکہ وہ اب پورے ملک کے وزیر اعظم ہیں ، انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال سنگین ہے ، اغوا برائے تاوان ،قتل اور بھتہ خوری کی وجہ سے عام آدمی کی زندگیاں داؤ پر لگی ہیں لیکن تقریر میں امن و امان کے حوالے کوئی لائحہ عمل نہیں دیا گیا، سردار بابک نے کہا کہ ملک کے ترقیاتی اور دفاعی بجٹ کے بارے میں وزیر اعظم کو کھل کو پالیسی دینی چاہئے تھی اور بتایا جائے کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ بااعتماد اور دوستانہ تعلقات کو کیسے یقینی بنایا جا سکے گا،انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ذکر کیا جاتا تو خدشات اور تحفظات شاید کم ہو سکتے تھے، ان زیادتیوں کا ازالہ کیسے ہو گا؟
سی پیک کو اس کے اصل نقشہ سے ہٹ کر تعمیر کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے چھوٹے صوبوں کو نظرانداز کیا گیا وزیر اعظم بتائیں کہ ان زیادتیوں کا زالہ کیسے ہو گا،ملک میں ناروا لوڈ شیڈنگ ،مہنگی ترین بجلی کے پر بھی کوئی واضح پیغام نہیں دیا گیا ، انہوں نے کہا کہ غریب عوام ان چھوٹے چھوٹے مسائل سے دوچار ہیں جن کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی،انہوں نے کہا کہ چندے اکٹھے کر کے ملک نہیں چلائے جا سکتے ، مہنگائی کا طوفان ، بے روزگاری اور بد امنی کا شکار پاکستانی قوم کس طرح چندے دے سکتی ہے،انہوں نے کہا کہ ملک چلانے کیلئے ٹھوس اقدامات اور پالیسیوں کی ضرورت ہے جن کی اس تقریر میں کمی محسوس ہوئی ، سردار بابک نے کہا کہامن و امان کی بدترین صورتحال میں سرمایہ کاری کے کتنے امکانات ہیں؟،یہ تمام ایسی باتیں ہیں جن کی قوم منتظر ہے۔