قوم نے35برس تک خارجہ و داخلہ پالیسیوں پر مصلحت کا خمیازہ بھگتا، میاں افتخار حسین

حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں ،سپرپاورز کے مفادات میں اب مزید خون نہیں بہایا جا سکتا ۔

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے دنیا کی تمام امن پسند قوتوں کو مل کر کوششیں کرنا ہو ں گی۔

سپرپاورز نے اپنے مفادات کی جنگ میں ہمارے خطے کو ایندھن بنائے رکھا ۔

دہشت گردی سے متاثرہ اور مقابلہ کرنے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔

باچا خان کے پیروکاروں نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں،جو تاریخ کا انمٹ باب ہیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ حکومت قوم کیلئے زہر قاتل خارجہ و داخلہ پالیسی فوری طور پر تبدیل کرے ، اور سپر پاورز کے مفادات کی بجائے قوم کے مفاد میں آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دے، دنیا بھر میں دہشت گردی سے متاثر ہونے والے افراد کے عالمی دن کے موقع پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں لہٰذا سپرپاورز کے مفادات میں اب مزید خون نہیں بہایا جا سکتا ، انہوں نے امن کی خاطر دنیا بھر میں قربانیاں دینے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ہم قوموں کی آزادی، جمہوریت اور پر امن دنیا پر یقین رکھتے ہیں ،نئی آنے والی حکومت اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے اور آزاد خارجہ پالیسی سامنے لائے تاکہ قوم کو دہشت گردی کے ناسور سے چھٹکارا مل سکے، انہوں نے کہا کہ ہر سال دہشت گردی سے متاثرہ افاراد کا دن منانا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اب اس مائنڈسیٹ کو شکست دے کر دنیا بھر میں امن قائم کیا جانا چاہئے تاکہ مزید انسانوں کو متاثرین بننے سے بچایا جس سکے، باچا خان اور ولی خان نے ہمیشہ عدم تشدد کا درس دیا جس کے برعکس ان کے پیروکار اتنے ہی زیادہ دہشت گردی کا شکار ہوئے ،انہوں نے کہا کہ ملکی پالیسیوں کے بارے میں ہمیشہ مصلحت سے کام لیا گیا جس کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشت گردی علاقائی اور بین الاقوامی سطح پرایک مائنڈ سیٹ بن چکی ہے اور اس کے خاتمے کیلئے تمام امن پسند قوتوں کو مل کر کوششیں کرنا ہو ں گی۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سپر پاورز نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے ہمارے خطے کو تارگٹ کئے رکھا ،ہمارے پرامن نصاب کو تبدیل کر دیا گیااور قوم کی سوچ بدلنے کی حتی الوسع کوششیں کی گئیں،انہوں نے کہا کہ ہمارے خطے میں ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی 35سال تک دہشت گردی کی مختلف صورتوں میں ہماری نسل کشی کی جاتی رہی لیکن باچا خان کے پیروکاروں نے اس جنگ کے خلاف جو قربانیاں دیں وہ تاریخ کا انمٹ باب ہے اور اتنی بڑی قربانیاں دینے کے باوجود وہ اپنے اسلاف کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے ، انہوں نے کہا کہ میں خودبھی دہشت گردی کے متاثرین میں شامل ہوں ، میرے بیٹے کو شہید کیا گیا اور میرے گھر پر خود کش حملے بھی کئے گئے اسی لئے میں باقی دنیا میں دہشت گردی سے متاثر ہونے والوں کے دکھ اور تکلیف کو قریب سے محسوس کر سکتا ہوں، انہوں نے کہا کہ حالیہ الیکشن میں مجھے ہرایا گیا اس کے باوجود میں آج بھی دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں اور مجھے تھرٹ الرٹ جاری کئے جا رہے ہیں،انہوں نے واضح کیاکہ آج وقت آ گیا ہے کہ دنیا خصوصاً ہمارے خطے میں پر امن،انسان دوست اور ترقی پسند پالیسیوں کی ضرورت ہے اور دہشت گردی کو شکست دینے کیلئے پر امن دنیا کو ہمارا ساتھ دینا ہو گا، انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ دہشت گردی کی مخالفت کی چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں اور کسی بھی صورت میں ہو ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم امن کے خواہاں ہیں،انہوں نے اپنے دور وزارت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بحیثیت وزیر اور ترجمان جن مصائب کا سامنا کرنا پرا وہ صرف میں جانتا ہوں ، اے این پی کے دور میں ہم نے دہشت گردی کے خلاف جہاد کیا ، سوات آپریشن فوج نے ضرور کیا تاہم اگر اے این پی ساتھ نہ دیتی تو دہشت گردوں کا صفایا کرنا ممکن نہیں تھا،انہوں نے کہا کہ افغانستان بھی اپنی پالیسیون پر نظر ثانی کرے اور انہیں قوم کے مفاد کے پیش نظر ازسر نو ری وزٹ کرے، انہوں نے کہا کہ روس ،چین اور امریکہ اپنے مٖفادات کی جنگ کا ایندھن پاکستان کو نہ بنائیں ،اور چین بھارت کے ساتھ اپنے اختلافات اپنی سرزمین تک محدود رکھے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی پالیسیاں تبدیل کی جائیں تو ان تمام انسانیت دشمن عوامل کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔